بیوی کے ساتھ حسن سلوک کا معاہدہ اور مشروط طلاق کے متعلق استفسار
طلاق سمجھا جائے گا سے طلاق ہوگی یا نہیں؟ علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ میں شوکت علی ولد الہی بخش خاں قادری ساکن مدرت گنج، تھانہ کوہ خراج ضلع الہ آباد آج مؤرخہ ۱۹ مارچ ۱۹۸۲ء کو دو گواہوں جو میرے ضمانت دار کی حیثیت سے میرے ساتھ آئے ہیں، ان کے بعد دیگر لوگوں کے ساتھ یہ منظور کرتا ہوں کہ حفیظن دختر نظام خاں ساکن مصطفی آباد ضلع رائے بریلی جو میری زوجہ منکوحہ ہے، میرا اور حفیظن کا نکاح مسلم رسم و رواج کے تحت شرعی طور سے ہوا تھا۔ ادھر کچھ عرصہ سے آپس میں غلط نہی کی وجہ سے میں حفیظن کو لا کر اپنے والد نظام خاں کے گھر چھوڑ دیا تھا لیکن اب تمام غلط فہمیاں دور ہوگئی ہیں اس لئے میں دو گواہوں اور ضمانت دار (۱) با بوخاں ولد محمد ہارون خاں ساکن مدرت گنج (۲) کبیر خاں ولد علی حسین خاں ساکن مدرت گنج کو لے کر آیا ہوں ، یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ میری غلطی تھی اپنی زوجہ حفیظن کو مدرت لے جانا چاہتا ہوں۔ میں خود اور دو میرے گواہ وعدہ و ضمانت لیتے ہیں اگر حفیظن کے ساتھ کسی قسم کا غلط سلوک ہوتا ہے تو میرے گواہ اور ضمانت دار کو نظام خاں قادری قانون کے حوالے کرے برادرانہ طور پر گاؤں والوں کی مرضی کے مطابق کارروائی کریں گے۔ میں اپنی زوجہ کو میکہ آنے جانے پر کسی قسم کی مزاحمت نہیں کروں گا ان تمام باتوں کی میں خود اور میرے دونوں ضمانت دار ذمہ داری لیتے ہیں اگر مندرجہ باتیں غلط ثابت ہوئیں تو حفیظن اور ان کے والدین شرعی طور سے دنیا وی اصول کے مطابق مجھ پر جو جرم عائد کریں گے ان کو منظور کروں گا۔ اور اگر حفیظن کو میں مطمئن نہ کروں اور مجھ سے ناراض ہوکر حفیظن اپنے ماں باپ کے یہاں چلی آئے گی تو شرعی طور سے بلا جبر میری طرف سے خود دی گئی
الجواب: صورت مسئولہ میں حفیظن پر طلاق واقع نہ ہوئی کہ اس طلاقنامہ پر شوہر نے کوئی لفظ ایسا نہ لکھا جس سے طلاق واقع ہو جاتی ۔ ”طلاق سمجھا جائے گا سے طلاق نہ ہوئی۔ ہند یہ وغیرہ میں ہے: ولو قال (داده انکار او کرده انکار) لا يقع وان نوی () واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ شب ۲۹ رذی الحجہ ۱۴۰۴ھ