سیاسی غرض اور غیر مسلموں کی مدد سے فتنہ کے لیے بنائی گئی مسجد کا حکم
بھی ہو گیا۔ مگر اسی دوران دو تین مہینے سے چار پانچ مالدار مسلمان کو غیر مسلموں کے سکھانے پر سیاست اور ووٹ حاصل کرنے اپنی اقتدار اور مطلب اور اغراض کے لئے یہ اسلامی طریقہ پسند نہیں آیا اور غیر مسلموں کے سکھانے میں آکر مسلمانوں میں نفاق اور پھوٹ ڈال دیا ہے، اس چھوٹی سی بستی میں زمانہ دراز سے ایک مسجد جہاں مسلمان لوگ نماز پڑھتے مگر تین چار ماہ ہونے جا رہا ہے وہ چار پانچ فتنہ پرور لوگ اپنی سیاسی کرسی کے لئے غیر مسلموں کی گود میں بیٹھ کر مسلمانوں کو لڑانا چاہتے ہیں اور کٹوانا چاہتے ہیں عام مسلمانوں کے پوچھے بغیر غیر مسلموں کے سکھانے اور ان کی مدد سے ایک مکان بنوا کر جس کو مسجد کہتے ہیں جہاں سے مسلمانوں میں فتنہ ڈالا ہے اور مسلمانوں کو بہکا وادے رہے ہیں کہ میری طرف آجاؤ ، ہم باز پرسی نہیں کریں گے، یہ سب تم پر پابندیاں ہیں، تم کو ہر طرح کی آزادی رہے گی اور جو بھی غلطیاں کرو گے اس سے باز پرس ہم لوگ نہیں کریں گے، یہ سب چال غیر مسلموں کے مشورے اور سکھانے سے چار پانچ فتنہ پرور مسلمان کر رہے ہیں جن کی وجہ کر جو شراب، جوئے چھوڑ کر نماز پڑھنے گئے تھے اس میں پندرہ بیس لوگ اس کی طرف جا کر پھر سے اپنی برائی اور بُری عادتوں کو اپنا کر شراب جوئے میں پھر سے مبتلا ہو گئے ہیں، یہ سب چال غیر مسلموں کی ہے تاکہ مسلمانوں میں پھوٹ پڑ جائے ۔ لہذا ایسی مسجد جو غیر مسلموں کے مشورے اور مدد سے صرف فتنہ پیدا کرنے کے لئے اور سیاست کی غرض سے ووٹ حاصل کرنے کے لئے بنائی گئی ہے، اس مسجد میں نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ اور ایسے لوگوں کو جو مسلمانوں میں نفاق ڈال رہے ہیں اور غیر مسلموں سے مروانا اور کٹوانا چاہتے ہیں ایسے نام نہاد فتنہ پرور لوگوں سے ہم سنی مسلمان لوگ کیا سلوک کریں؟ ایسے لوگوں کے یہاں کھانا پینا، میل جول رکھنا جائز ہے یا نہیں؟ اور ایسے لوگوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر سکتے ہیں یا نہیں؟ از روئے شرع قرآن وحدیث کی روشنی میں کیا حکم ہے؟ جواب سے نوازیں؟
الجواب: المستفتی: محمد خاں، آدم خاں پٹھان ناظم اعلی مدرسه هر بید دستگیر یہ منڈگور ضلع کاروار (1) یہ صورت مالی جرمانہ کی ہے اور مالی جرمانہ لینا ممنوع وحرام ہے۔ بحر الرائق کے باب التعزیر میں ہے: ،، لا يجوز لا حد من المسلمين اخذ مال احد بغیر سبب شرعی (1) در مختار میں ہے: انه کافی فی ابتداء الاسلام ثم نسخ (۲) لہذا یہ رقم انہیں واپس دینا لازم ہے، جس سے لی ہے اور اگر وہ اجازت دیں تو اس کام میں اٹھانا جائز ہے جس کے لئے انہوں نے کہا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) حکم اوپر گزرا، اور اگر یہ واقعہ ہے جو تحریر ہوا تو وہ لوگ جو باعث فتنہ وفساد و تفریق مسلمین اور وائی گناہ ہیں ، دو سخت گنہ گار مستوجب نار تخق غضب جہار ہیں، ان کی مسجد کی بابت اگر یہ ثابت ہے کہ سازش، فتنہ وفساد کے لئے بنائی گئی ہے تو مسجد نہیں اس میں نماز نہ پڑھیں اور ایسے لوگوں کو عام مسلمان چھوڑ دیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ مگر وہ لوگ بعد موت مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہوں گے بشرطیکہ ان کا ارتداد ثابت نہ ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۸ ذیقعده ۱۴۰۹ھ