جہیز کی شرعی حیثیت اور حوض کوثر سے دور کیے جانے والے لوگوں کے متعلق تحقیق
راج پورا یک گاؤں ہے اس گاؤں کی ایک بیٹھک میں چند آدمی بیٹھے تھے جن میں جہیز کی باتیں ہو رہی تھیں لیکن انہی میں سے ایک شخص زید نے کہا کہ جہیز تو سنت رسول ہے لیکن جہیز کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی کے اوپر ظلم کر کے یا زمین بیچ کر کے لیا جائے۔ دوسرے دن جمعہ میں ایک صاحب بکر نے مسجد میں تقریر کی اور اپنی تقریر کے دوران یہ الفاظ استعمال کیسے کہ بزرگ لوگ کہتے ہیں کہ جہیز سنت رسول ہے لیکن ظلم کر کے نہ لیا جائے۔ لیکن تقریر میں بکر نے یہ جملہ بھی استعمال کیا کہ جہیز تو صرف حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے لئے تھا اور حضور نے اپنی کسی لڑکی کو جہیز نہیں دیا۔ پھر تقریر میں بکر نے کہا کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم شافع محشر ہیں ، قیامت کے روز آپ حوض کوثر پر ہوں گے اور اپنے امتی کو پانی پلائیں گے لیکن کچھ اصحاب ایسے بھی ہوں گے جو آپ کے ساتھ دوزخ کی طرف جاتے ہوں گے۔ (نوٹ) بکر نے جو جملہ استعمال کیا کہ حضور نے حضرت فاطمہ کے سوا کسی لڑکی کو جہیز نہیں دیا“ اور کچھ اصحاب ایسے بھی ہوں گے جو آپ کے ساتھ دوزخ کی طرف جاتے ہوں گے“۔ کیا آپ کے اصحاب بھی دوزخ جائیں گے؟ ایسا عقیدہ رکھنے والا کیسا ہے؟ اور قرآن وحدیث میں ایسے لوگوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟
المستفتی محمد یونس خاں صاحب رام باندھ ، پوسٹ کو سیارہ ضلع پلاموں (بہار ) الجواب: فی الواقع جہیز حسب استطاعت دینا امر مشروع و سنت سے ثابت ہے اور خصوصیت کا دعوی ہے دلیل ہے اور ظلم و جبر مطلقا ممنوع و گناہ ہے اور یہ صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ کچھ لوگ سرکار علیہ الصلاۃ والسلام کے حوض کوثر سے دور کئے جائیں گے، سر کارفرما ئیں گے یہ میرے لوگ نہیں ۔ کہا جائے گا: لاتدرى احدثوا بعدک (1) آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا صحیح البخاري، كتاب التفسير باب قوله كما بدأنا اول خلق، ج ۲، ص ۲۹۳، مجلس برکات مگر اس سے صحابہ کرام مراد نہیں نہ مقرر نے صحابہ کو کہا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی