عورت کو اس کے شوہر سے بگاڑنے اور اسے گھر پر روکنے کا شرعی حکم
اپنی لڑکی کو گھر پر روک رکھے اور غلط کام بھی ہو، جواب دینے کی زحمت گوارا کریں! المستفتی : غلام محمد جعفر علی ساکن بمبیا نا ضلع بریلی شریف
الجواب: عورت کو اس کے شوہر سے بگاڑ نا سخت حرام لعنت انجام ہے۔ حدیث میں ہے: لیس منا من خبب امرأة على زوجها او عبدا علی سیده (۱) ہم میں سے نہیں جو عورت کو اپنے شوہر سے بگاڑے یا غلام کو اس کے آقا سے بگاڑے۔ زواجر میں ہے: رووا فيه ان النبی صلی الله علیه وسلم لعن من فعل ذلک (۲) یعنی علماء نے روایت کیا ہیکہ حضور عالی صلوۃ والسلام نے اس فعل کے مرتکب پر لعنت فرمائی ہے۔ بر تقدیر صدق سوال وہ لوگ سخت گناہگار مستوجب نارحق اللہ وحق العبد میں گرفتار ہیں اور اگر واقعہ یہ ہے کہ وہ عورت زنا میں گرفتار ہوئی اور یہ لوگ اس کے فعل سے راضی ہیں تو دیوث ہیں اور اس وجہ سے بھی لعنت کے مستحق ہیں۔ یہ حکم اس صورت میں ہے جبکہ جرم شرعاً ثابت ہو ورنہ بے ثبوت شرعی مسلمان کی طرف کس گناہ کی نسبت خود جرم ہے۔ احیاء میں ہے: لاتجوز نسبة مسلم الى كبيرة من غیر تحقيق (۳) اور شوہر کو اسے طلاق دینے کا اختیار ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۹ رذی الحجہ ۱۴۰۴ھ