دعائے اذان، تراویح، نعرہ یا محمد، قرآن کی ترتیب اور زکوٰۃ سے متعلق مختلف سوالات
(1) دعائے اذان میں رفع یدین کس حدیث سے ثابت ہے؟ (۲) نماز تراویح میں کیا دعا مانگنی ضروری ہے؟ (۳) حضور علیہ السلام کے گنبد خضراء کو منم اکبر کس نے کہا ہے؟ اور کس کتاب میں لکھا ہے؟ (۴) حضور علیہ السلام کو یا محمد سے ندا کرنا کیسا ہے؟ بعض حضرات اس طرح ناجائز کہتے ہیں حالانکہ حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں ہے کہ یا محمد کہنے کی خود حضور نے تعلیم فرمائی، بعض مشکلات میں صحابہ کرام نے بھی یا محمداہ کا نعرہ لگایا، مشکوۃ شریف کتاب الایمان کی پہلی حدیث میں حضرت جبرئیل علیہ السلام نے یا محمد کہا اور اس طرح کی دوسری احادیث میں یا محمد موجود ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یا محمد نا جائز و حرام نہیں ہے، بعض بزرگوں کے اشعار میں بھی یا محمد موجود ہے جس سے جواز معلوم ہوتا ہے۔ (۵) الٹا قرآن پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ اگر نا جائز ہے تو ختم تراویح میں حفاظ کرام سورہ ناس کے بعد دوسری رکعت میں سورہ بقرہ تا مفلحون پڑھتے ہیں، یہ کیونکر جائز ہے؟ (1) سنار جب خود کسی سے سونا چاندی کے زیورات خریدتے ہیں تو ٹانکی کی قیمت وضع کر کے کم کر دیتے ہیں، کیا ان زیورات کی زکوۃ کی ادائیگی میں ایسا کیا جا سکتا ہے؟ (۷) حضور علیہ السلام کے صرف نام نامی پر یا القاب و خطابات پر بھی درود شریف پڑھنا ضروری ہے؟ یا جب بھی ان کا ذکر جمیل ہو، درود شریف ضروری ہے؟ اس طرح تو بظاہر دشوار ہے کیونکہ پوری محفل میلا دذکر رسول ہی ہے تو گویا درود شریف سے کوئی لمحہ خالی نہیں ہونا چاہئے اور یہ مشکل معلوم ہوتا ہے۔ (۸) پاجامہ وغیرہ بیٹھ کر پہننے کا حکم ہے لیکن عملاً دشوار ہے بعد میں کھڑا ہونا ہی پڑتا ہے۔ تو کیا اس کی خلاف ورزی نہیں ہوئی ؟ (۹) مصارف زکوۃ میں قرآن کریم نے عاملین کو شمار کیا ہے، موجودہ مدارس کے محصلین اور سفراء عاملین میں داخل ہیں یا نہیں ؟ اگر داخل مانا جائے تو کیسا ہے؟ المستفتی: مبین الہدی نورانی ، خطیب باری مسجد، آزادنگر، جمشید پور (بہار)
الجواب: (1) ہاتھ اُٹھانا ہر دعا کے آداب سے ہے۔ حصن حصین میں ہے: وو بسط اليدين ورفعهما (1) اور خصوص دعائے اذان میں کوئی حدیث نہ دیکھی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) ضروری کوئی دعا نہیں۔ البتہ مستحب ہے کہ تین بار سبحن ذی الملک والملکوت سبحن ذى العزة والعظمة والهيبة والقدرة والكبرياء والجبروت سبحن الملک الحی الذي لا ينام ولا يموت سبوح قدوس ربنا ورب الملئكة والروح لا اله الا الله نستغفر الله نسئلک الجنة ونعوذ بك من النار ،، اور قرآت وسکوت یا تنہا نماز کا بھی اختیار ہے۔ درمختار میں ہے: ’ويخيرون بين تسبيح وقراءة وسكوت وصلاة فرادى (٢) رد المحتار میں ہے: قوله (بين تسبيح) قال القهستانى فيقال ثلاث مرات "سبحان ذی الملک والملكوت سبحان ذى العزت والعظمة والقدرة والكبرياء والجبروت سبحان الملک الحى الذى لا يموت سبوح قدوس رب الملائكة والروح لا اله الا الله نستغفر الله نسألك الجنة ونعوذ بك من النار كما فى منهج العباد - اه‘ (۳) یہ حکم ترویحہ بمعنی جلسہ بعد چهار رکعت کا ہے اور ترویحہ سے مرادا گر نماز ہو تو اس میں وہی دعائے معروفہ پڑھی جائے جو اور نمازوں میں پڑھتے ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) محمد بن عبد الوہاب نجدی نے ، جیسا کہ اعلام الاعلام والدرر السنیة لزینی دحلان میں ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) الحصن الحصين من كلام سيد المرسلين ، اداب الدعاء، ص ۲۴ ، المكتبة العصرية، بيروت (۲) الدر المختار، کتاب الصلوة باب الوتر والنوافل، ج ۲، ص ۴۹۶ ، ۴۹۷ ، دار الكتب العلمية، بيروت (۳) رد المحتار، کتاب الصلوة، مبحث صلاة التراويح، ج ۲، ص ۴۹۷، دار الكتب العلمية، بيروت (۴) وہ لوگ صحیح کہتے ہیں۔ فی الواقع مذہب صحیح پر حضور علیہ السلام کو محض نام اقدس کے ساتھ ندا کرنا ناجائز ہے۔ قال تعالیٰ: لا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا صحابہ کرام فرماتے ہیں کہ ہم حضور کو یا محمد کہہ کر پکارتے تھے تو ہمیں اس آیت کے ذریعہ منع فرمادیا گیا۔ اسی لئے علماء فرماتے ہیں کہ ادعیہ میں جہاں کہیں یا محمد آیا ہے۔ اس کے بجائے یا رسول اللہ کہا جائے اور جب ممانعت وارد ہوئی تو جن احادیث میں یا محمد وارد ہوا وہ قبل منع پر محمول اور جواز منسوخ اور بعد منع اگر کسی راوی نے کہا تو عدم اطلاع پر محمول ہوگا اور غیر محتاطین کے شعر حجت نہیں اور بزرگان دین کے اشعار میں یا محمد غلبہ شوق و شکر میں آ گیا تو وہ سند جواز نہیں اور اگر تعظیم و تجمیل کے کلمات سے مقرون ہے تو یہ بیشک جائز ہے کہ حضور کو ادب و تعظیم کے ساتھ نام لے کر پکارا جائے۔ ناجائز تو یہ ہے کہ بے اظہار تعظیم محض نام اقدس سے ندا کریں کما صرح به في الفتاوی الخیریۃ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) ناجائز ہے مگر ختم میں اجازت ہے۔ درمختار میں ہے: يكره أن يقرء منكوسا الا اذا ختم فيقرء من البقرة ملخصا (٢) رد المحتار میں ہے : قوله ( الا اذ ختم - الخ) قال في شرح المنية وفي الولوالجية من يختم القرآن فى الصلاة اذا فرغ من المعوذتين فى الركعة الأولى يركع ثم يقرء في الثانية بالفاتحة وشئ من سورة البقرة لأن النبي ﷺ قال خیر الناس الحال المرتحل أى الخاتم المفتتح -اه‘ (۳) واللہ تعالیٰ اعلم (4) نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ بلکہ سونے کے وزن کا اعتبار کیا جائے گا۔ (۷) حضرت امام طحاوی علیہ الرحمہ کا مذہب یہ ہے کہ حضور سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم پر جب حضور اقدس علیہ السلام کا ذکر ہو، درود بھیجنا واجب ہے۔ یہی معتمد ہے اور احادیث کریمہ سے مؤید (۱) سورة النور: ٦٣ (۲) الدر المختار، کتاب الصلوة، باب صفة الصلوة، ج ۲، ص ۲۶۹ ، دار الكتب العلمية، بيروت (۳) ردالمحتار، کتاب الصلوة، مطلب في الاستماع للقرآن فرض كفاية، ج ۲، ص ۲۶۹، دار الكتب العلمية، بيروت ہے۔ اور ذکر نام و لقب اقدس سب کو شامل ہے پھر مجلس میں جتنی بار نام اقدس آئے تو ایک بار درود پڑھ لینے کے بعد بار بار درود پڑھنا اگر چہ واجب نہیں کہ مجلس متفرقات کی جامع ہوتی ہے اور وہ متفرقات ایک ہی شمار ہوتے ہیں۔ ہدایہ میں ہے: المجلس جامع للمتفرقات ) اور اس کی نظیر ایک مجلس میں چند بار آیت سجدہ سننا ہے کہ اس میں صرف ایک سجدہ تلاوت واجب ہوتا ہے مگر درود شریف کی تکرار باعث برکت موجب اجر ہے۔ نفس صورت مسئولہ کا جزئیہ لیجئے۔ رد المحتار میں ہے : " قدمنا عن الكافى أنه كالصلاة يجب في المجلس مرة “(۲) در مختار میں ہے: والمعتمد من المذهب قول الطحاوی-الخ (۳) واللہ تعالیٰ اعلم (۸) بیٹھ کر پہنیں اور کھڑے ہوکر باندھیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۹) نہیں کہ عامل وہ ہے جسے سلطان اسلام نے زکوۃ وصول کرنے کے لئے مقر رکیا ہو، اسے امام اس کی اور اس کے اعوان کی بقدر کفایت زکوۃ کے مال سے دے گا جبکہ وہ عمل کرے۔ تبیین شرح کنز میں ہے: ” فالعامل يدفع اليه الامام ان عمل بقدر عمله فيعطيه ما يسعه واعوانه غير مقدر بالثمن الخ ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الا جو بہ کلہا صحیحۃ ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۳۰ صفر المظفر ۱۴۰۲ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی