درگاہ پر سجادہ نشین مقرر کرنے کے شرعی احکام اور طریقہ کار
(۱) ایک پیر صاحب کا وصال ہوا تو اُن پیر صاحب قبلہ رحمتہ اللہ علیہ کو دفن کرنے کے بعد اُن کی درگاہ بنائے ہیں یعنی سالانہ عرس بھی ہوتا ہے کہ پیر صاحب قبلہ کے مریدین بھی ہیں اور خلفاء بھی اور اولا د بھی ہیں تو اب بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس درگاہ میں سجادہ نشین اور جانشین کوئی نہیں اس لئے جلد سے جلد یہاں پر سجادہ اور جانشین کسی کو بنا دو اور ان کا ہونا ضروری ہے۔ ان کے بغیر عرس وغیرہ نہیں کروا سکتے ہیں۔ کیا ان کا کہنا ٹھیک ہے؟ کیا درگاہوں پر سجادہ مقرر کرنا ضروری ہے؟ (۲) یہ بزرگ صاحب درگاہ کے سجادہ نشین اور جانشین کس کو بنا ئیں؟ (۳) صاحب مزار بزرگ رحمہ اللہ کے اگر فرزند ہیں یہ اپنے والد قبلہ رحمتہ اللہ علیہ سے بیعت نہیں ہوئے ان کو اسی بزرگ کے خلفاء کرام سے بیعت و خلافت دلا کر سجادہ نشین مقرر کر لیں تو یہ طریقہ ٹھیک ہوگا ؟ یا یہ صاحب مزار کے خلفاء ہی میں سے کسی کو سجادہ بنائیں؟ (۴) یہ بزرگ صاحب مزار کے فرزندوں کو کسی دوسرے سلسلہ کے پیر صاحب سے بیعت وخلافت ملا ہو تو یہ فرزندا اپنے والد قبلہ رحمتہ اللہ علیہ کے درگا و پر سجادہ نشین ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ (۵) درگاہ شریف کے سجادہ نشین مقرر کرنے کا حق کس کو ہے؟ یہ کام صرف خلفاء ہی کا ہے یا مریدین کا ہے یا سارے مسلمان کا ؟ ان سوالوں کا جواب تحریر فرما کر رہنمائی فرمائیں۔ المستفتی: جی باشاه میمن مسجد ، ہاسپیٹ ، بلاری (کرناٹک)
الجواب: عرفاً سجادہ نشین امور خانقاہ و عرس وغیرہ کے اہتمام وانصرام کے لئے مقرر کیا جاتا ہے اور اسے مقرر کرنا ارباب حل وعقد ( کہ اب علماء با شرع ہیں ) کا کام ہے یاسنی عوام کی اکثریت کو یہ کا راہم مفوض ہوتا ہے۔ یہ اس صورت میں جبکہ متوفی کی اپنے کسی مرید کے لئے وصیت نہ ہو ورنہ وہی مقرر ہوگا جس کے لئے وصیت ہو اور مرید کی قید سے جو ابھی گزرا ظاہر کہ سجادگی کے لئے آدمی کا اپنے متوفی شیخ سے مرید ہونا ضروری ہے ورنہ وہ شخص جو شیخ سے مرید نہ ہو سجادہ نہیں ہوسکتا اور اسے اس شیخ کے سلسلہ میں لوگوں سے بیعت لینا جائز نہیں۔ یہاں سے پیر صاحب کے فرزندوں کا حکم ظاہر ہو گیا۔ اور باقی باتوں کا جواب بھی ظاہر ہے۔ فرزندوں میں سے کسی دیانندار متقی با شرع اہل کار ہو وہ امور خانقاہ کا نا قسم و متولی بنا یا جا سکتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۰ ذوالحجه ۱۴۱۲ صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی