کسی دنیا دار عورت کے مصنوعی عرس اور اس میں ہونے والی خرافات کا حکم
بزرگوں کی آڑ لے کر اس قبر کی تعریف کی ، لوگ اور بھی گمراہی میں پکے ہونے لگے پھر دوسرے دن ایک بہت بڑی اور لمبی چوڑی سبز رنگ کی چادر لے کر چار چھ عورتوں نے پکڑ لی تھی اور پورے گاؤں اور محلہ میں اس کا گشت کرایا جس کے آگے پیچھے قوالوں کی ٹولی تھی، اپنا عاشقانہ راگ گا رہے تھے، چادر میں روپئے پیسے وغیرہ لوگ ڈالتے تھے ایسے مصنوعی عرس میں شریک ہونا کیسا ہے؟ جو صاحب اس میں منع کرنے پر بھی پہنچے اور اس قبر پر جھوٹی تعریف بزرگوں میں شمار کرتے ہوئے کی ان مقرر پر شرعی کیا حکم ہے؟ اور ایسا دھندا کرنے والے یعنی عرس ایک دنیا دار عورت کا کرنے والے پر کیا حکم ہے؟ اس مسئلہ کو شرعی ثبوت کے ساتھ حق فیصلہ فرما کر مطمئن فرما ئیں ۔ عین نوازش و بندہ پروری ہوگی !
الجواب: حرام بد کام بدانجام اور وہ سب مرتکب حرام اشد گناه گارمستوجب نار، ان سب پر تو به لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء منظر اسلام، بریلی شریف