اجتماعی شادیوں (سمیلن) کا شرعی حکم اور ہنود سے مشابہت کا خدشہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ہذا میں کہ آج کل راجستھان میں ایک بڑی رسم رائج ہے کہ اہل ہنود اجتماعی شادیاں کرتے ہیں جن کو سمیلن کہتے ہیں اسی طرح مسلمانوں میں ایک قبیلہ جو منصوری نام سے منسوب ہے وہ بھی اجتماعی شادیاں کر رہے ہیں جو سرکار کے فرمان ”من تشبه بقوم فهو منهم “ کے سراسر مصداق ہیں۔ کیا ایسی شادیوں میں شرکت کرنا صحیح ہے؟ ان کا نکاح جائز ہوگا؟ جو لوگ ایسا کر رہے ہیں ان کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے؟ (۲) اجتماعی شادیاں کرنے والوں کا یہ کہنا ہے کہ مسلمان بہت پریشان ہیں، ہزاروں روپیہ شادیوں میں خرچ کر دیتے ہیں قرض دار ہو جاتے ہیں، آخر میں رسوائی سے پالا پڑتا ہے اس لئے ہم ایسا کر رہے ہیں، یہ ان کا منشا ہے اور وہ مشرکین کے طور سے مشابہت ہٹا کر مثلاً فرداًفردا شادیاں کرائیں تو شریعت کا کیا حکم ہے؟ یا شریعت اسلامیہ کی جانب سے کوئی ایسا راستہ بتائیں جس سے ہماری قوم اس گمراہی سے بچ سکے۔ (نوٹ: ) دسمبر کی تاریخوں میں یہ اجتماعی شادیاں ہوں گی ۔ اگر حضور جلدی سے جواب دے دیں تو کرم ہوگا۔ المستفتی : نیاز القادری و رستم علی خاں مدرسه انجمن اسلامیہ قلندریہ اہلسنت والجماعت جے پی نگر، رنگپور روڈ ،کوٹ جنکشن-۲ (راجستھان)
الجواب: اجتماعی شادیوں سے کیا مراد ہے؟ وضاحت کریں، اگر یہ مراد ہو کہ ایک ساتھ کئی شادیاں ہوتی ہیں تو اس میں حرج نہیں جبکہ جائز طور پر ہنود کے مشابہت سے اجتناب کرتے ہوئے کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۶ رصفر المظفر ۱۴۰۱ھ