اجتماعی طور پر سلام مختصر پڑھنا چاہئے !
کیا فرماتے ہیں مفتیان دین وملت اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے یہاں مسجد میں پیش امام صبح کو بعد نماز فجر کے بلغ العلی بکماله کشف الدجی بجماله حسنت جمیع خصاله صلوا علیہ و آلہ بہت پڑھتے ہیں، کیا یہ سلام ہے؟ اور اس کو سلام کی جگہ پڑھنا چاہئے ؟ تحریر فرما ئیں ۔ ایک دن جمعہ کو صبح ہم نے اعلیٰ حضرت کا لکھا ہوا سلام جو ہم کو یاد ہے، ہم نے صلوۃ وسلام پڑھا جو المیز ان میں سلام لکھا ہے۔ اور اس کے بعد ہم نے ”اے شہنشاہ مدینہ الصلوۃ والسلام ۔ زینت عرش معلی الصلوۃ والسلام “ پورا پڑھا اور ”شہ عرش اعلی سلام علیکم حبیب خدا یا سلام علیکم پورا پڑھا تو ہمارے اوپر لوگوں نے اعتراض کیا کہ اتنا بڑ اسلام مت پڑھا کرو، لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے، کھڑا ہونا مشکل ہے۔ پندرہ منٹ لگتا ہے تو ہم نے سلام پڑھنا بند کر دیا ہے لوگوں نے کہا کہ مختصر سلام پڑھا کرو تو آپ ہی بتائیں کہ مختصر سلام کتنا ہے؟ اور اگر ہم سلام پڑھا رہے ہیں پھر کوئی نمازی آگیا تو ایسی صورت میں کیا سلام پڑھنا بند کردیں یا پڑھتے رہیں؟ تحریر فرما ئیں۔ پیش امام نماز کے بعد فرض کے بعد دعا مانگتا ہے چپ چاپ خاموشی سے تو مقتدیوں کو کچھ دعا پڑھنا چاہئے یا نہیں؟ اور اگر زور سے دعا پڑھ رہا ہے تو مقتدیوں کو کیا پڑھنا چاہئے؟ کوئی دعا تحریر فرما ئیں ۔ ہم نے دہلی میں دیکھا کہ امام نے ہاتھ اُٹھائے دعا کے لئے، پیچھے بکر نے الحمد للہ کہا سب مقتدیوں نے ہاتھ اُٹھائے امام خاموشی سے دل میں دعا کرتا رہا پھر سب دعاختم کر لی تو بکر نے
برحمتک یا ارحم الراحمین کہا، سب نے ہاتھ پھیرے۔ الجواب: المستفتى : محمد رضی خاں محلہ زخر پور قصبہ تلہر ضلع شاہجہانپور غالباً وہ سعدی شیرازی علیہ الرحمہ کے یا علامہ تاج سبکی علیہ الرحمہ کے اشعار ہیں جو نعت وسلام پر مشتمل ہیں، ان کا پڑھنا خوب و محبوب ہے اور جو سلام کے اشعار درج ہوئے ان کا پڑھنا بھی اچھا ہے مگر صبح کا وقت نیند کے غلبہ کا اور لوگوں کی ضروریات کا ہوتا ہے لہذا طویل سلام نہ پڑھنا چاہئے ۔ البتہ اگر تنہائی ہو یا پوری جماعت دیر تک سلام رغبت و شوق سے پڑھے تو مضائقہ نہیں بلکہ اچھا ہے اور امام بآواز بلند دعا مانگے تو آمین کہیں ورنہ دعائے ماثور یا جود عا یا د ہو، پڑھیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله