جن کے کہنے پر مزار پر جانے اور جادو کی تہمت لگانے کے حوالے سے سوال
کسی جن کے کہنے پر مزار پر جانا عورت کو نا جائز و حرام ہی ہے! قبلہ اعلیٰ حضرت سیرت کمیٹی ، بریلی شریف ! السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاته بعد ادائے آداب وقدمبوسی کے عرض ہے۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس تہمت کے بارے میں کہ (1) ایک عورت رقیہ کے اوپر جن کا سایہ آتا ہے کہ میں پاک جن ہوں اس کے مرد کا کہنا ہے محمد امین کا کہ میری عورت کے اوپر پاک جن کا سایہ ہے وہ بتلا رہا ہے کہ تمہاری ماں جادوگرنی تھی جو مر گئی ہے اس کالڑ کا غلام جادوگر ہے میرے بھائی کا ہاتھ کھا رہا ہے فاروق کا ، غلام کی عورت بھی جادوگرنی ہے جس کا کہنا ہے یہ سب تہمت ہمارے اوپر لگائی گئی ہے، ہم ان چیزوں سے واقف نہیں ہیں، اس کا جن بولتا ہے کہ ایک تاریخ کو داتا چلنا ہمارے ساتھ میں ، ہم جانے کو تیار ہیں پاک جن کی پہچان کیا ہے؟ نا پاک جن کی پہچان کی ہے؟ اور جن قسم کھاتا ہے کیا یہ بات بھی ہے؟ یا اس کی کوئی پہچان ہے؟ جس کے بدن میں
الجواب: بے ثبوت شرعی کسی مسلم کی طرف گناہ کبیرہ کی نسبت حرام ہے جو کسی جن بھوت کے بتانے سے حلال نہ ہوگی اور مزاروں پر جانا عورتوں کو حلال نہیں تو کسی جن کے کہنے پر مزار پر جانا عورت کو ناجائز وحرام ہے اور بالفرض اگر اس عورت پر کوئی جن ہے تو وہ نیک نہیں کہ گناہ کا حکم دینا نیکیوں کا کام نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۶ / جمادی الآخره ۱۴۰۲ھ دارالافتاء منظر اسلام، بریلی شریف