مسجد کی تعمیر نو کے بعد بچنے والے سامان کی فروخت اور غیر مسلم سے چندہ لینے کا حکم
سرکار کی بارگاہ میں ایک مسئلہ عرض خدمت ہے۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ (۱) ایک قدیم مسجد کے نمازیوں کی تعداد کافی ہو گئی۔ بستی والوں نے آپس میں مسئلوں کو رکھا کہ اس کو شہید کر کے بڑی مسجد اس جگہ پر بنائی جائے ۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس جگہ پر بڑی مسجد تعمیر ہوئی اور قدیم مسجد کا سامان از قسم لوہے کی سر یا اور کچھ لکڑیاں از قسم کھڑکی دروازہ بچ گیا، لوگوں کا خیال ہے کہ اس کو فروخت کر کے نئی مسجد میں لگایا جائے۔ بچے ہوئے سامان کی قیمت قریب ایک ہزار لوگوں نے لگایا ہے۔ ایک شخص کا کہنا ہے کہ قدیم مسجد کا بچا ہوا سامان فروخت کر کے نئی مسجد میں لگانا جائز نہیں، بلکہ مٹی میں دفن کر دیجئے ۔ لہذا قدیم مسجد کے بچے ہوئے سامان کو فروخت کر کے نئی مسجد میں لگایا جاسکتا ہے یا نہیں آنٹی مسجد میں ابھی بہت کام باقی ہے۔ (۲) غیر مسلم کا چندہ مسجد میں لینا جائز ہے یا نا جائز ؟ جواب باصواب ارشاد فرمائیں، جملہ مریدین کا سلام عرض ہو۔ فقط ، والسلام!
الجواب: المستفتی: غلام رسول (۱) مسجد کا پرانا سامان واجبی قیمت پر کسی مسلمان سے فروخت کر دیں اور وہ اسے تعظیم کی جگہ پر لگائے ، ایسی جگہ نہ لگائے کہ جہاں اس کی بے حرمتی ہو۔ در مختار میں ہے: وو حشيش المسجد وكناسته لا يلقى في موضع يخل بالتعظيم یعنی مسجد کی گھاس اور کوڑے بے ادبی کی جگہ نہ ڈالے۔ الدر المختار كتاب الطهارة ، ج ۱، ص ۳۲۲، دار الكتب العلمية، بيروت اور جس نے یہ کہا کہ مسجد کا سامان فروخت کر کے نئی مسجد میں لگانا جائز نہیں ہے بلکہ مٹی میں دفن کردیجئے ، غلط کہا۔ بے علم کو مسئلہ بتا نامنع ہے۔ قال تعالى: "وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ) اور حدیث میں ہے: یعنی اس بات کے پیچھے نہ لگ جس کا تجھے علم نہ ہو من افتی بغیر علم لعنته ملئكة السماء والارض (٢) بے علم جو فتو کی دے، اس پر آسمان وزمین کے فرشتے لعنت کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) کاردین میں مشرکین کا چندہ لینا شرعا منع ہے۔ حدیث شریف میں ہے: ’نهينا عن زبد المشركين (۳) اور جو وہ از خود دیں اور منت و احسان نہ رکھیں نہ اس امید پر کہ اپنے شر کی رسوم کے لئے مسلمانوں سے لیں گے، اسے لیا جاسکتا ہے اگر چہ نہ لینا بہتر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله