خائن و فاسق یا نا اہل متولی کو معزول کرنا واجب، قسم توڑنے اور مسجد و مدرسہ کے مال میں خیانت کا حکم
خائن و فاسق یا نا اہل متولی کو معزول کرنا واجب ! علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ (1) زید نے کلام پاک کی قسم کھائی کہ اب میں کسی شخص علم نہیں کروں گا اور نہ کسی کو ستاؤں گا نگر زید اپنی قسم پر قائم نہیں ہے۔ ایسی حالت میں زید کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے؟ (۲) بکر پانچ سال سے مسجد کا متولی ہے جو کچھ پیسہ لوگوں نے مسجد کی مرمت وغیرہ کے لئے جمع کیا وہ اس پیسے کو نہ مسجد کی مرمت میں خرچ کرتے ہیں اور نہ حساب کتاب عوام کے سامنے پیش کرتے ہیں ایسے متولی کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے۔ (۳) زاہد مدرسہ کا مہتمم ہے اور انہوں نے عوام سے امدادی چندہ مدر سے کے لئے وصول کیا اور عشر کا گندم بھی کافی لوگوں سے وصول کیا مگر مدرسے میں کوئی پیسہ صرف نہیں کیا۔ ایسی حالت میں ایسے مہتم پر شریعت کا کیا حکم ہے؟ (۴) حامد عید گاہ کی تمامی زمین پر قبضہ کئے ہوا ہے جس کو جوت کر اس کا ایج اپنے استعمال میں لیتا ہے اور جب عید کی نماز کا وقت آتا ہے تو یہ کہہ دیتے ہیں کہ عید کی نماز مسجد میں ہوگی ۔ ایسی حالت میں حامد کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے؟ لمستفتی: ولیمحمد معرفت مصرا پوسٹ مین ساکن مولی قاضیان ضلع بریلی شریف (یوپی)
الجواب: (۱) زید بے قید بر تقدیر صدق سوال سخت گنہ گار مستوجب نارحق اللہ وحق العبد میں گرفتار ہے، اس پر ظلم سے تو بہ صحیحہ لا زم اور قسم کا کفارہ دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) بر تقدیر صدق سوال و ثبوت جرم متولی مذکور خائن و فاسق و نا اہل تولیت ہے جبکہ شرعاً ثابت ہو کہ وہ پیسہ اس نے خرد برد کر دیا۔ اس صورت میں وہ مستحق عزل ہے بلکہ اسے معزول کرنا واجب ہے۔ یونہی اگر بے وجہ مرمت میں تا خیر و تعطیل سے کام لیا تو یہی حکم ہے کہ اس صورت میں اہل کار نہیں اور متولی کا اہلکار ہونالازم ورنہ اسے بھی معزول کرنا لازم ۔ در مختار میں ہے: دو ينزع وجوبالوالواقف غيرمامون (ملخصاً) الخ ) واللہ تعالیٰ اعلم (۳) اس پر وہی حکم جو متولی کا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) نامزد کر کے سوال کرنا شرعاً نا مناسب ہے لہذا حامد اگر مسئول عنہ کا نام ہے تو یہ نہ چاہئے تھا بلکہ زید وعمر وبکر وغیرہ جیسے نام لینا چاہئے تھا۔ پھر بر تقدیر صدق سوال وہ شخص سخت گنہ گار ہے۔ اس پر لازم ہے کہ عید گاہ کی زمین چھوڑے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۷ رذی قعده ۱۴۰۵ھ