مسجد کی دکانوں کو صرف اپنی برادری کے لوگوں کو کم کرائے پر دینے کی شرعی حیثیت
مسجد کی دکانیں کسی وجہ سے صرف اپنی برادری کو دینا کیسا ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ کسی برادری کے نام سے منسوب ایک مسجد ہے، مسجد سے متصل مسجد کی کچھ دکانیں ہیں، مسجد کی تعمیر ومرمت صرف اسی برادری کے لوگ ہی اپنے پیسوں سے کراتے ہیں اور کوئی دوسری برادری کا کچھ عطیہ دینا چاہے تو بلا عذر و اعتراض کے لے لیا جاتا ہے لیکن کسی غیر برادری سے کچھ سوال نہیں کیا جاتا، جو بھی خرچ ہوتا ہے سب برادری کے آدمی ہی پورا کرتے ہیں، مسجد کی کچھ دکا نہیں بنی تھیں اور کچھ نئی بنوائی گئیں۔ جو دکانیں پرانی تھیں، ان کو از سر نو تعمیر کرا کے انہیں پہلے دی جاتیں، غیر برادری کو نہ دی جاتیں حالانکہ غیر برادری کے لوگ بہ نسبت برادری کے لوگوں کے زیادہ کرایہ دیتے ہیں چونکہ برادری کے لوگ پسماندہ ہیں اس لئے برادری کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ہماری برادری پسماندہ ہے، آج ان کو کم سے کم پیسوں پر دکان دے کر جب یہ لوگ ترقی کی منزل پر گامزن ہو جائیں گے تو یہی لوگ زیادہ سے زیادہ کرایہ دینے پر راضی ہو جائیں گے ، جیسا کہ برادری کے کرائے داروں کا قول ہے۔ غیر برادری کو نہ دینے کی دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ دکان کا کرایہ بڑھانے میں اور نہ بڑھانے کی صورت میں خالی کروانے میں بڑی دقت و پریشانی ہوتی ہے جس کی ایک نظیر موجود ہے جو پرانی دکانیں ہیں اس میں سے ایک صاحب نکلنے لگے تو دوسرے صاحب سے کچھ ہزار روپے (پوشیدہ طور پر ) لے کر دکان ان کے حوالے کر دی۔ برادری کے لوگوں تک دکان کی کوئی بات ہی نہیں آئی اور باہر ہی باہر طے کر کے دکان دوسرے
الجواب: صورت مسئولہ میں برادری کے لوگوں کو کرایہ پر دینا انسب ہے بشرطیکہ کرایہ واجبی طے ہو ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۲۰ محرم الحرام ۱۴۰۸ھ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی