عدت کے دوران نکاح کروانے اور طلاق نامہ میں غلط تاریخ درج کرنے والے امام کی امامت کا شرعی حکم
(۲) ایک عورت جس کو اپنے خاوند سے طلاق لئے ہوئے آٹھ یا دس دن کا عرصہ گزرا ہوگا۔ عدت کو بالائے طاق رکھ کر اس عورت کا نکاح جناب والا نے کسی دوسرے سے کر دیا۔ (۳) ایک شادی شدہ مرد نے اپنی عورت کو چھوڑ دیا اور اس کو نان و نفقہ بھی نہیں دیتا تھا۔ اس لئے وہ عورت دوسری شادی کرنے پر مجبور ہوگئی اس عورت کے شوہر سے طلاق نامہ لکھوانے کے لئے جناب پیش امام صاحب کو ایک اہم رول ادا کرنا پڑا۔ بہر حال طلاقنامہ اپریل ماہ کے آخر ہفتہ میں لکھا گیا اور نکاح اس کے فوراً بعد ماہ مئی کے پہلے ہفتہ میں جناب والا نے کسی دوسرے مرد سے پڑھا دیا۔ یہاں قابل توجہ بات یہ ہے کہ طلاقنامہ جس ماہ اور جس دن لکھا گیا تھا وہ تاریخ کو چھوڑ کر قریب ساڑھے تین ماہ پیچھے کی تاریخ طلاق نامہ میں لکھی گئی۔ اس کے ثبوت کے لئے شواہد موجود ہیں۔ یہ اس لئے کہا گیا کہ عدت کا سوال نہ پیدا ہو۔ (۴) جناب پیش امام صاحب کا دعوی ہے کہ وہ صحیح العقیدہ اہل سنت و جماعت کے ترجمان ہیں۔ با وجود بالا تحریر شدہ اوصاف کے مالک ہونے کے کیا وہ اپنے دعوئی میں حق بجانب ہیں؟ جناب امام صاحب سوال نمبر ایک کے مطابق ایک شادی شدہ عورت کا نکاح بغیر طلاق کے کسی دوسرے مرد سے کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ دوسرے سوال کے مطابق عدت کو بالائے طاق رکھ کر طلاق لی ہوئی عورت کا نکاح دوسرے مرد سے عدت کے اندر ہی اندر پڑھانے کے ذمہ دار ہیں۔ اب رہا تیسرا سوال ۔ جناب والا کو کچھ ہوش آیا اس لئے دنیا والوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے عدت تین ماہ دس روز گنتی کرنے کے بعد جس ماہ میں اور جس تاریخ کو اصل طلاق نامہ لکھا گیا اسے ہٹا کر اس طلاقنامہ میں تاریخ ڈالی گئی لیکن امام صاحب کو اتنا بھی خیال نہ رہا کہ وہ اللہ رب العزۃ کے آگے اپنے یہ کالے کرتوت چھپا نہ سکیں گے۔ اب لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ نکاح عدت پورا ہونے پر ہی ہوا جیسا کہ طلاقنا مے میں درج شدہ تاریخ سے ظاہر ہے۔ کیا ایسے امام صاحب کی امامت جائز ہے؟ ایسے شخص کے پیچھے نماز ادا کرنے والوں کی نماز ہوگی ؟ امام صاحب کے یہ اوصاف کی جانکاری ہوتے ہوئے ان کی ہمت افزائی کرنے والے مسجد کے متولی صاحب کے لئے شرعاً کیا حکم ہے؟ کیا اسلام میں ایسے پیش امام صاحب کی حیثیت ایک مسلمان کی
الجواب: فی الواقع اگر یہ شرعاً ثابت و مشتہر ہے کہ امام مذکور نے دانستہ منکوحہ اور معتدہ کا نکاح پڑھایا اور لوگوں کو فریب دیا تو انہیں امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے اور متولی مذکور اگر ان کی تائید کرتا ہے تو وہ بھی ان کے ساتھ شریک گناہ ہے۔ مگر ان امور سے وہ خارج از اسلام نہ ہوئے کہ ہم اہل سنت کے نزدیک آدمی کسی گناہ سے کا فرنہیں ہوتا جب تک کہ کسی حرام قطعی کو حلال نہ جانے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۴ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۴ھ