منکوحہ کا نکاح دوسری جگہ کرنے والے سے قطع تعلق کا حکم !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کا شرع شریف اور بستی سے اس بنا پر بائیکاٹ تھا کہ اس نے زید سے بغیر طلاق ہوئے اپنی لڑکی کی شادی دوسری جگہ کر دی۔ اب جب اس لڑکی کے دوسرے آدمی کا باپ زید سے طلاق لینے کے لئے اپنے ساتھ چار آدمی لے گیا۔ ان چاروں آدمی نے زید سے طلاق لی ، تو کیا لڑکی کے باپ کے شرع شریف کے احکام پورے کرائے بغیر اور بستی والوں کو بتائے بغیر اس بائیکاٹ والے کے ساتھ کھا پی سکتے ہیں یا نہیں؟ شریعت مطہرہ کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ محمد قدیری چھرونی ، قلعه، بریلی شریف (یوپی)
الجواب: صورت مسئولہ میں شخص مذکور سخت گنہ گار مستحق عذاب نار ہوا اس پر تو بہ لازم ہے اور یہ نکاح باطل محض ہوا جبکہ دوسرے مرد کو اس کا منکوحہ غیر ہو نا معلوم تھا ور نہ فاسد اور متار کہ بعد علم فرض اور اس میں تاخیر گناہ اب جبکہ اس کے شوہر نے طلاق دے دی ہے تو بعد عدت نکاح ہو سکتا ہے عورت پر فرض ہے کہ دوسرے مرد سے فوراً علیحد ہ ہو جائے اور شخص مذکور تو بہ کرے تو اس سے میل کیا جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ار جمادی الآخره ۱۳۹۷ھ