لاؤڈ اسپیکر کی آواز پر اقتدا اور دیگر امور کا شرعی حکم
جائز ہے؟ مسلمانوں کو اس سے استفادہ کرنا چاہئے یا نہیں ؟ (۳) کیا لاؤڈ اسپیکر کی آواز کی اقتدا میں فرض یا نفلی یا تراویح کی نمازیں جائز ہیں؟ بالفرض اگر کسی سنی مسجد کے کار کردہ حضرات نے لاؤڈ اسپیکر کا انتظام کر لیا ہے تو وہاں پر نماز ہوسکتی ہے یا نہیں ؟ زید کہتا ہے کہ مظہر اسلام بریلی شریف کے شیخ الحدیث نے اس کے جواز میں ایک رسالہ بھی تصنیف کیا ہے۔ اس لئے یہ جائز ہے۔ حضور محدث اعظم ہند قبلہ کچھوچھہ شریف اور حافظ ملت حضرت مولا نا عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ سابق شیخ الحدیث مبارکپور وغیرہ نے لاؤڈ اسپیکر کی آواز پر اقتدا کو ناجائز قرار دیا ہے۔ برائے کرم بحوالہ حدیث وفقہ اس کا حکم عنایت فرمایا جائے ۔ عدم جواز کی صورت میں جوسنی امام خاموشی کے ساتھ جائز جان کر یا کسی مصلحت کے باعث لاؤڈ اسپیکر سے نمازیں پڑھائے ان کے لئے کیا حکم ہے؟ لاؤڈ اسپیکر سے نماز ہونے کی صورت میں جہاں تک امام صاحب کی اصل آواز جن مقتدی حضرات کو سنائی پڑتی ہے، ان کی نماز میں تو کوئی حرج واقع نہیں ہوتا مفصل بیان فرمائیں المستفتی: محمد رفیع آپر میٹر لائن نمبر ۳، بی بی پورہ، ہلد وانی ( نینی تال)
الجواب: (۱، ۲) مذکورہ امور سب خرافات ہیں۔ قال تعالیٰ: مَا أَنْزَلَ اللهُ بِهَا مِنْ سُلْطن (1) نذرونیاز و فاتحہ بزرگان و استمداد باولیاء میں حرج نہیں بلکہ خوب ہیں مگر اس طور پر ممنوع ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) لاؤڈ اسپیکر سے جو آواز نکلتی ہے وہ اس آلہ سے ٹکرا کر اس کی قوت سے پلٹ کر پھیلتی ہے اور پلٹی ہوئی آواز صدا ہے اور صدائے متکلم کی کاپی ہے جو معاً بیک وقت آواز متکلم کے ساتھ دور سے سنائی دیتی ہے اور اعتبار اقتدا میں امام کی اس آواز کا ہے جو اس کے منہ سے نکل کر اپنی ہی قوت سے مقتدی کے کانوں کو پہنچے ۔ صدا کا اعتبار ہمارے علمائے کرام نے نہ فرمایا۔ غنیتہ میں فرمایا کہ اگر آیت سجدہ صدائے بازگشت یا چڑیا سے سنی تو سجدہ تلاوت واجب نہیں وہذ انص الغنیہ : ولو سمعها من الطائر او الصدى لا تجب لانه محاكاة وليس بقراءة (1) اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ فقہا اسی آواز کا احکام میں اعتبار فرماتے ہیں جو دہن من سے نکل کر اپنی قوت سے بلا تغیر کیفیت سامع کے کان تک پہنچے۔ اور وہ آواز جو خارج کی قوت سے تغیر کیفیت کے ساتھ گوش سامع سے ٹکرائے ، اسے نفس آواز متکلم کا غیر جانتے ہیں۔ حالانکہ اس امر میں کہ دونوں آواز میں اسی متکلم کی منہ سے نکلی ہیں دونوں شریک تو دونوں عین متکلم پھر کیا وجہ ہے کہ اس پر سجدہ تلاوت واجب اور اس پر واجب نہیں ! تو لا محالہ ثابت کہ تبدل کیفیت ان کے نزدیک آواز اور آواز کی غیریت کے لئے کافی اور جب یہ چلتی ہوئی آواز متکلم کا غیر ٹھہری تو ضرور ایک امر خارج ہوئی اور خارج سے تلقین با جماع فقہا نماز میں ممنوع و مفسد ٹھہری تو ضرور ایک امر خارج ہوئی اور خارج سے تلقین با جماع فقہا نماز میں ممنوع و مفسد نماز ہے۔ لہذا ہم جملہ اہلسنت کے تاجدار غنیمت روز گار شاہزادہ اعلیٰ حضرت حضور سیدی الکریم مفتی اعظم ہند مولانا شاہ محمد مصطفیٰ رضا خانصاحب دامت برکاتہم العالیہ اور جملہ ا کا بر کا فتویٰ یہ ہے کہ جو لوگ لاؤڈ اسپیکر کی آواز پر اعتماد کر کے رکوع وسجود کریں گے، ان کی نماز فاسد ہوگی ۔ یہ جب ہے کہ وہ لاؤڈ اسپیکر حساس ہو کر آواز بے تکلف لے لیتا ہو اور اگر ایسا ہے کہ آواز بار بار ڈالنی پڑے تو بہ سبب عمل کثیر ، امام ہی کی نماز فاسد مقتدیوں کا کیا پوچھنا ؟ لہذا لاؤڈ اسپیکر کا استعمال نماز میں ممنوع ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم صح الجواب ! فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله فرضی مزار بنانا اور اس کی زیارت کرنی اور کرانی یا دعوت دینی اور ترغیب ، یہ تمام ناجائز ہیں، حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی کے فتاوے میں ہے: ” لعن الله من زار بلا مزار “اللہ کی لعنت ہے جس نے فرضی قبروں کی زیارت کی ۔ ( فتاوی عزیزی، بحوالہ کتاب السراج ، بروایت خطیب، ج ۱، ص ۱۴۷، مجتبائی دہلی ] اور یہ کہنا کہ فلاں بزرگ آتے ہیں، یہ بھی باطل وغلط و جھوٹ ہے، وہ بنتی ہے اور مکر وفریب دیتی ہے۔ اس پر اس غلط دعوی اور مکر و فریب سے تو بہ لازم ہے اور اس کی باتوں پر اعتماد کرنا غلط و باطل ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی