نابالغہ کے نکاح کی شرعی حیثیت اور جھوٹی قانونی کارروائی کا حکم
چچازاد بہن سے ناراض ہو گیا اور پولیس کیس کر دیا کہ دونوں نے غلط قسم سے یہ عقد کیا ہے جو کہ قانو ن نہیں ہونا چاہئے۔ پولیس نے خلاف قانون مقدمہ دائر کر دیا ہے کہ لڑکے اور لڑ کی بالغ نہیں ہوئے یہ شادی یعنی عقد کس طرح ہوا ؟ وکیل شاہد اور گواہان پر بھی مقدمہ دائر ہے۔ لہذا آپ از روئے شرع مدلل جواب دیجئے کہ ہمارے یہاں جو یہ عقد ہوا ہے شرعاً جائز ہے کہ نہیں اور اگر جائز ہے تو اسلامی قوانین کی خلاف ورزی پر مبین کے لئے کیا حکم صادر ہوتا ہے؟ جس نے شریعت اسلامیہ کا مذاق اُڑا کر جھوٹا مقدمہ کیا ہے اور چند شریف مسلمانوں کو پریشان کیا ہے۔ (نوٹ ) : مبین شراب بھی پیتا ہے، اس کے اس حرام چیز استعمال کرنے پر بھی شرعی حکم سے مطلع فرمائیے ۔ ۱- محمد ابو نیاز فاروقی قادری مصطفوی ۲ - رفیع اللہ صاحب رٹائر ڈ ریلوے گارڈ المستفتیان - نعیم الدین صاحب پر دھان گرام سماج ساکنان موضع گر یا نواں، پوسٹ منصور آباد ضلع الہ آباد
الجوار ب تفصیل سے سوال کیجئے۔ اس نابالغہ کا عقد کس نے پڑھایا۔ اس کے باپ نے یا کسی اور ولی نے ؟ اقرب نے یا ابعد؟ ابعد نے پڑھایا تو ولی اقرب حاضر تھا یا غائب اور غیبت منقطعہ تھی یا کیا ؟ یا غیر ولی نے؟ اور اگر غیر ولی نے پڑھایا تو باجازت یا بے اجازت؟ اور بے اجازت پڑھایا تو ولی نے اسے جائز کیا یا موقوف رکھا یار د کر دیا ؟ اور یہ کہ لڑکا چال چلن اور پیشہ میں لڑکی کا کفو تھا یا غیر کفو؟ اور مہر میں غبن فاحش ہوا یا نہیں؟ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ بر تقدیر صدق سوال وہ سخت گنہ گار مستحق لعنت جبار مستوجب نار ہے، تو بہ کرے، شراب چھوڑ دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم صح الجواب ! فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۶ ربیع الآخر ۱۴۰۲ھ شرعاً یہ نکاح جائز تھا ولی یا اس کی اجازت سے نابالغہ کا نکاح جائز و درست ہوا ہے قانون کچھ بھی ہو، مسلمان شریعت مطہرہ کا پابند ہے اور مبین کا کیس دائر کر ناغلط و باطل ہے، وہ گنہ گار ہوا، تو بہ کرے۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی