کسی مدرس کے شاگردوں کے لیے 'امت' کا لفظ استعمال کرنا کیسا ہے؟
امت عرف شرع میں تابعان نبی علیہ السلام کو کہتے ہیں! قبلہ و کعبه بندونوا محترم بزرگوار جناب مفتی صاحب قبلہ! السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاته گزارش خدمت یہ ہے کہ حسب ذیل سوال کا فتویٰ ارسال فرمانے کی تکلیف گوارا کریں ۔ عین نوازش ہوگی ! آج مؤرخہ ۱۲ شعبان ۱۴۰۲ھ بروز شنبہ کو کسی شخص کے یہاں قرآن خوانی میں مع طلباء و مدرسین کے گئے ، منزل پر پہنچنے کے بعد جگہ کی کمی کی وجہ سے کچھ طلباء دومنزل مکان پر قرآن شریف پڑھنے کے لئے گئے اور کچھ طلباء اور مدرسین نیچے کمرے میں قرآن شریف پڑھنے کے لئے تشریف آور ہوئے اور قرآن خوانی و ایصال ثواب کے بعد نیچے کمرے میں جتنے شخص تھے، ان لوگوں کو ناشتہ صاحب خانہ نے کرایا، اس کے بعد صاحب خانہ نے ایک مدرس سے مخاطب ہو کر یہ کہا کہ تم اپنی امت کو بلاؤ ، صاحب خانہ کا اشارہ دو منزلہ کے طلباء پر تھا۔ بہر کیف اس کے بارے میں علمائے دین کیا فرماتے ہیں؟
الجواب: واقع جسن پور، نالہ روڈ ، راؤر کیلا ( اُڑیسہ) امت عرف شرع میں تابعان نبی علیہ السلام کو کہتے ہیں اور لغت میں مطلق تابع کو کہتے ہیں، ان صاحب کو یہ لفظ نہ کہنا چاہئے تھا۔ تو بہ کر یں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۴ ؍رمضان المبارک ۱۴۰۲ھ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی