تجوید، کلمات دعا اور سورہ یسین میں وقف کے مسائل
حالت وصل اور حالت وقف میں رجلًا “ کو کیسے پڑھیں؟ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان دین و شرع متین کہ (1) میں نے ارشادات اعلیٰ حضرت میں پڑھا: "قل ھواللہ احد کی جگہ اھد“ پڑھتے ہیں، صحیح کیا ہے ؟ "احد" ہے یا "احد" ہے؟ یہ جو آیتیں ہوتی ہیں کسی حرف پر دو پیش ہوتے ہیں کسی حرف پر دوزیر کسی حرف پر دوز بر ہوتے ہیں اور آگے آیت ہوتی ہے کیا کسی طرح پڑھے؟ ہم نے بہت پڑھے ہوئے آدمیوں کو دیکھا احد پڑھتے ہیں ہم خود احد پڑھتے ہیں لیکن جب میں ارشادات اعلیٰ حضرت پڑھا تب میں آپ کو لکھ رہا ہوں، صحیح معلومات ہو جائے، ہیچ پڑھنے کا طریقہ آ جائے۔ (۲) ہاتھ پر دہنا ہاتھ رکھ کر دعا پڑھتے ہیں ارشاد اعلیٰ حضرت مع الوظیفۃ الکریمہ میں اس طرح لکھی ہے: اللهم أذهب عنى الهم “ لکھا ہے اور جو علیحدہ الوظیفۃ الکریمہ خریدی ہے اس میں الف کے نیچے زیر ہے’ اذهب “ لکھا ہے کیا صحیح ہے اور کراچی کی جو الوظیفۃ الکریمہ ہے اس میں اللهم أذهب عنى الھم “ اس طرح لکھا ہے، کس کو صحیح پڑھا جائے؟ تحریر فرما ئیں (۳) سورہ یسین کی ایک آیت میں "من موفدنا " پر وقف لازم وقف غفران وقف منزل اور سکنہ بھی ہے یہاں ٹھہر نا چاہئے ، سانس تو ڑنا چاہئے یا نہیں؟ یا " من مرقدنا “ پڑھا جائیگا؟ صیح کیا ہے؟ صل یاقف، یہاں کیا صل“ پڑھے یا قف“ پڑھا جائے گا ؟
الجواب: (1) احد حائے حطی سے جسے بڑی ح“ کہتے ہیں صحیح ہے اور احد ہائے ہوز یعنی چھوٹی ”ھ“ سے پڑھنا غلط و ناجائز ہے۔ ارشادات اعلیٰ حضرت میں احد نہ ہوگا اور ہوگا تو طباعت کی غلطی سے ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم ج وقف جائز کی علامت ہے اور یہی آیت کی علامت ہے اور وقف کی حالت میں احد دال کے جزم سے اور وصل میں احد دال پر نون تنوین کے ساتھ پڑھا جائیگا، دوز بر کی صورت میں حرف آخر کو زبر کے ساتھ پڑھیں گے اور نون تنوین کو ادا کریں گے۔ چنانچہ رجلًا‘ کو رجلن “ پڑھیں گے یہ وصل کی صورت میں اور وقف کی صورت میں الف کے ساتھ رجلا پڑھیں گے اسی طرح دو زیر جس حرف کے نیچے ہوں اس کو زیر کے ساتھ اور نون تنوین کے ساتھ پڑھیں گے تو ر جل کو ر جلن پڑھیں گے اور جب ٹھہریں گے تور جل لام کے جزم سے پڑھیں گے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) اللهم اذهب عنى الهم “۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) یہاں ٹھہریں اور سانس نہ توڑیں۔ قف پر ٹھہرے کہ قف علامت وقف ہے وقف غفران وقف منزل کی تعریف نہ مل سکی ، قراء سے رجوع کیجئے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم صح الجواب ! فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۱۳ ربیع الآخر ۱۴۰۶ھ قرآن کریم میں پہلے پارے کے ساتھ تقسیم نہ تھی ،سات منزلیں تھیں ،صحابہ کرام اور مابعد کے حضرات روزانہ ایک منزل پڑھتے تھے اس قرآت میں وصل و وقف مذکور ہے اور وقف غفران یہ ہے کہ وہ آیت وسعت ہے کہ وہاں نظیر کر دعائے مغفرت کی جائیگی تو انشاء المولیٰ تعالیٰ مقبول ہوگی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی