منکرین فاتحہ و چہلم کے وہابی ہونے اور ان سے نکاح کے عدم جواز کا حکم
زید ایک قصبہ کا رہنے والا ہے جہاں پر کسی وقت میں بڑے بڑے علماء وا کا بر ر ہے جو کہ قصبہ نصیر آباد کے نام سے موسوم ہے انہیں کے فیض و کرم سے ہم لوگ سنت رسول کے پابند ہیں کہ ہم لوگ محرم چہلم، کونڈ اوغیرہ کسی چیز کے قائل نہیں ہیں، دیگر خیالات کے لوگ ہم کو وہابی بھی کہتے ہیں ، ہم اپنے لڑ کے کا عقد کرنا چاہتے ہیں، عمرو کے یہاں وہ اپنے کوسنی کہتے ہیں جو کہ نتیجہ فاتحہ چالیسواں محرم چہلم کونڈا وغیرہ سب کے قائل ہیں، ان کے یہاں اپنا لڑ کا ہم شرعی اصول سے کرنا چاہتے ہیں۔ لہذا علمائے دین براہ کرم ہمیں بھی شرعی طور سے بتادیں کہ شادی جائز ہے یا نہیں۔ فقط بابو ٹیلر ماسٹر ضلع رائے بریلی (یوپی)
الجواب: فاتحہ و چہلم وغیرہ کے منکرین وہابی ہیں اور مروجہ تعزیہ داری کو ہم سنی بھی حرام کہتے ہیں، اور وہابی بنت سنیہ کا کفو نہیں اور غیر کفو سے نکاح صحیح نہیں ۔ درمختار میں ہے: ويفتي في غير الكفو بعدم جوازه اصلا وهو المختار للفتوى الفساد الزمان (1) اور اگر وہابیت حد کفر تک پہنچی ہے جیسا کہ دیو بندیوں کا حال ہے یا عقائد کفریہ پر مطلع ہو کر انہیں کا فرنہیں جانتا تو مرتد ہے، اصلاً اس کا نکاح جہان میں کسی سے نہیں ہوسکتا۔ درمختار میں ہے: ،، لا يصلح ان ينكح مرتد او مرتدة احدا من الناس مطلقا (۲) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله