مرد کا بے پردہ لڑکیوں کو یا مخلوط ذكور واناث کو تعلیم دینا شرعا کیسا ہے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسائل ذیل میں کہ (1) جو شخص کا لج یا ہائی اسکول میں لڑکوں کے ساتھ لڑکیوں کو بہ نیت تعلیم و اصلاح و بغرض ضرورت معاش عربی کی تعلیم دیتا ہو، اسے مسجد کا امام بنانا جائز ہے یا نہیں ؟ (۲) زید کہتا ہے جو شخص کا لج یا ہائی اسکول میں صرف لڑکیوں کو بے پردہ تعلیم دیتا ہو یا لڑکوں کے ساتھ لڑکیوں کو بے پردہ تعلیم دیتا ہو، دونوں صورتوں میں اسے مسجد کا امام نہیں بنا سکتے ۔ بکر کہتا ہے کہ پہلی صورت میں ممنوع ہونا کچھ قرین قیاس لگتا ہے مگر دوسری صورت میں تو بالکل ایسے شخص کو مسجد کا امام بنا سکتے ہیں ورنہ سڑکوں اور چوراہوں پر چلنا، ٹرینوں، بسوں اور ہوائی جہازوں پر سفر کرنا محکمہ ڈاک، ریلوے، بینک کے دفاتر میں جانا بھی ممنوع ہونا چاہئے کیونکہ وہاں پر عموماً عورتوں سے نگاہیں چار ہوتی ہیں بلکہ آج کل بالخصوص جنوب میں شہروں کی بیشتر تجارتی منڈیوں، دوکانوں، حکومت کے دفاتر ، ہسپتالوں میں نرسوں اور بسوں اور ٹرینوں میں عورتوں سے کئی کئی گھنٹوں تک لگا تار اور بار بارتفصیلی سابقہ پڑتا ہے جبکہ النظرة الاولی لک والثانیۃ علیک ہے) جن سے نظام زندگی کے بیشتر معاملات وابستہ ہیں اور جن کے بغیر معاشرہ میں رہنا دشوار گزار ہے۔ زید کہتا ہے کہ بغرض ضرورت و بہ نیت کراہت کوئی حرج نہیں تو بکر کہتا ہے کہ تب تو کالج یا دیگر تعلیمی اداروں میں لڑکیوں کو بے پردہ یا لڑکوں کے ساتھ بغرض تعلیم و اصلاح ضرورت معاش و به نیت کراہت پڑھانا بدرجہ اولی جائز ہونا چاہئے اور نیز ایسے شخص کو امام مسجد بنانا بھی جائز ورنہ مذکورہ حالات کی روشنی میں کوئی شخص امامت کے لائق نہ رہے کیونکہ تقریباً ہر شخص کو ان سے سابقہ پڑتا ہے۔ (۳) کیا ان تعلیمی اداروں میں جہاں مخلور تعلیم کا انتظام ہو ( مثلا کالج ، ہائی اسکول ) تدریسی خدمات انجام دینا اور ان شعبوں میں جہاں مخلوط طور پر عورتیں مرد کام کرتے ہوں، ملازمت کرنا اور مخلوط تعلیم گاہوں میں لڑکوں یا لڑکیوں کو داخلہ جائز ہے یا ناجائز ؟ پہلی دونوں صورتوں میں جواب منفی ہے تو پھر ایسی کمائی کا کیا حکم ہے؟ بینوا وتوجر واعنداللہ
الجواب: بے پر دو لڑکیوں کو پڑھانا جائز نہیں ہے اور لڑکے اور لڑکیاں دونوں مخلوط ہوں تو بیا ور زیادہ سخت گناہ ہے اور سفر پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے، سفر میں وہ صورت ناگریز اور ضرورت پر مبنی ہے، پھر کوئی اس جگہ اختلاط کا تصور نہیں کرتا بلکہ ہر شخص اپنے خیال میں منہمک اور اپنی منزل کی طرف متوجہ ہوتا ہے پھر بھی حتی الوسع غض بصر اور عفت کا حکم ہے اور شہوت دیکھنا حرام ہے اور بے شہوت اور بے ارادہ اگر چہ نظر ہزار بار پڑے اس پر مواخذہ نہیں اور عورتوں کی ملازمت اور مردوں کے ساتھ نشست و برخاست کب جائز ہے؟ کہ اس پر اس مخلوط تعلیم کو قیاس کیا جائے۔ لہذا ایسے اسکولوں میں جہاں عورت مرد ایک ساتھ بیٹھتے ہوں اپنی لڑکیوں کا داخلہ کرانا جائز نہیں اور بے پردہ لڑکیوں کو خصوصاً جبکہ لڑکوں کے ساتھ ہوں پڑھانا ضرور گناہ ہے کہ اعانت علی المعصیت ہے مگر کمائی حلال ہے کہ اجارہ بعینہ معصیت پر نہیں ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۲۳ / رمضان المبارک ۱۴۰۹ھ