فاسق معلن اور بے نمازی پیر کی بیعت اور اس سے علیحدگی کا حکم
کئی خلفاء ہیں مگر غور طلب بات یہ ہے کہ اکثر و بیشتر وقتوں میں دیکھا گیا کہ آپ صرف مغرب و فجر کے سوا کوئی نماز نہیں پڑھتے تھے، لیکن نماز کے متعلق جب کوئی بات چھڑ جاتی تو کہتے کہ جان بوجھ کر اگر کوئی ایک وقت کی نماز بھی ترک کرے تو کا فر ہے۔ ایک رمضان شریف میں ان کو دیکھا گیا کہ پورے رمضان بے روزہ رہے اور علاج بھی کراتے رہے اور کہتے تھے کہ مجھے اختلاج قلب اور دیق النفس اور ڈیا بٹیر اور دوران خون کی بیماری ہے حالانکہ کھانے پینے میں کوئی فرق نہ معلوم ہوتا تھا، ویسے ظاہر میں بھلے چنگے لگتے تھے۔ یہ واقعہ تمام مریدین کو معلوم ہوا اس کے علاوہ کچھ ایسی باتیں جو کہ خاص زید ہی جانتے تھے وہ یہ ہے کہ ۶۵ ، ۷۰ رسال عمر ہونے کے باوجود بھی تین جگہوں سے ایسی خبریں ملیں کہ مریدوں کی بہو بیٹیوں کی عصمت دری کی کوشش کی جس کے یہاں یہ واقعہ ہوا اور جن کو معلوم ہوا وہ لوگ ان سے متنفر رہنے لگے ، اس صورت میں علمائے دین کیا فرماتے ہیں؟ ان کے مرید اسی بیعت پر بدستور رہیں یا تجدید بیعت کریں یا بیعت توڑ دیں؟ براہ کرم جواب عنایت فرمائیں۔ بینوا توجروا۔ فقط
الجواب: آپ کا غلام محمد ربیع الاسلام موضع و پوسٹ قل پور ضلع مڈن پور اگر یہ باتیں جو درج سوال ہو ئیں ، نام نہاد پیر پر ثابت ہیں تو وہ سخت فاسق معلن تھا اور فاسق معلن لائق پیری نہیں کہ پیر کی تعظیم واجب ہے اور فاسق کی تعظیم ممنوع وحرام ۔ لہذا اس کی بیعت توڑ دیں اور کسی جامع شرائط بیعت سے بیعت ہو جا ئیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله یکم رمضان المبارک ۱۴۰۲ھ