نسبندی (تسویدی) کرانے والے کے توبہ کرنے کے بعد امامت کا حکم
تسویدی کرانے کے بعد امامت کر سکتا ہے؟ اور نماز سب کی اس کے پیچھے ہو جائے گی ؟ اس کی طرف سے جواب اس طرح تھا: وہ گنہ گار مستحق عذاب نار فاسق ہے، لائق امامت نہیں، مگر جب تو بہ صحیحہ کرلے تو اسے امام بنانا جائز ہے۔ اس جواب سے ہمارے دلوں میں کئی خیالات پیدا ہوئے کہ جیسے ایک آدمی مسئلہ مسائل اور دینی علم میں دخل رکھتا ہے، وعظ ونصیحت بھی کرتا ہے اور اسے معلوم بھی ہے کہ نسبندی کرانا گندا ہے اور جانتے ہوئے بھی وہ نسبندی کرالے، تو کیا وہ تو بہ صحیحہ کرلے تو امام بنانا جائز ہوگا ؟ کیا ہر آدمی جاننے والا اور نہ جاننے والا دونوں شخص تو بہ صحیحہ کر لیں تو امام بنانا جائز ہے؟ پس حضرت سے دست بستہ عرض ہے کہ جو خیالات ہمارے دل میں پیدا ہوئے ہیں ان کا جواب فتوے میں خلاصہ بھیجنے کی تکلیف کریں تو بڑی عنایت اور مہربانی ہوگی۔ امید ہے کہ حضرت دوبارہ جواب بھیجیں گے۔ ہم جواب کے لئے منتظر رہیں گے۔ تکلیف کے لئے معافی چاہتے ہیں۔ فقط والسلام المستفتی : انوارالدین قریشی محله سال چورہ، پوسٹ پہلو دہ ضلع رتلام (ایم پی )
الجواب: ہاں بعد تو بہ صحیحہ اس کی امامت میں کراہت نہ ہوگی بشر طیکہ کوئی مانع شرعی نہ ہو۔ تو یہ صیحہ سے سب کا گناہ معاف ہو جاتا ہے۔ حدیث میں ہے: التائب من الذنب كمن لا ذنب له گناہ سے تو بہ کرنے والا ایسا ہے جیسے کہ بے گناہ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله