بے ثبوت الزام پر مسجد سے روکنے اور چندہ واپس کرنے کا شرعی حکم
میں ایسے آدمی کو مسجد میں آنے نہیں دوں گا اس کے بعد زید نے کہا کہ تم لوگ شیطان ہو، اس کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟ (۲) زید نے ایک سو ایک روپیہ مسجد میں دیا تھا وہ ایک سو ایک روپیہ یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ تو جھوٹا آدمی ہے تمہارا روپیہ مسجد میں لگانا جائز نہیں ، جن کے گواہ نہیں ہیں کہ روپیہ فلاں نے دیا ہے تو اس کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟
المستفتی: محمدمعین الاسلام، بریلی شریف بے ثبوت شرعی کسی مسلم کی طرف گناہ کبیرہ کی نسبت حرام ہے۔ شرح فقہ اکبر میں احیاء العلوم سے ہے: لا يجوز نسبة مسلم الى كبيرة من غير تحقيق (1) الہذا اسے بے ثبوت شرعی ملزم جاننا جائز نہیں ہے نہ مسجد سے روکنا حلال بلکہ یہ اشد حرام بد کام بدانجام ہے۔ قال تعالیٰ: وَ مَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ مَنَعَ مَسْجِدَ اللهِ أَن يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَى فِي خَرَابِهَا (٢) اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجدوں میں اللہ کا نام لینے سے لوگوں کو رو کے اور مسجدوں کو ویران کرنے کی کوشش کرے۔ اور اس کے دیے ہوئے روپے واپس کرنا بھی جائز نہ تھا، ان لوگوں پر توبہ لازم ہے اور اس شخص سے عذر خواہی بھی ضرور ۔واللہ تعالیٰ اعلم (1) منح الروض الازهر شرح الفقه الاکبر ، ص ۸۷، مکتبہ تھانوی (۲) سورة البقرة : ١١٤ فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی