بسم اللہ کی فقہی حیثیت، نماز و تراویح میں بسم اللہ کے جہر کا حکم اور تیجہ کے چنوں سے متعلق سوالات
(1) بسم اللہ الرحمن الرحیم شریف قرآن پاک کی کتنی سورت کا جز ہے؟ یا الگ آیت ہے؟ اور بسم اللہ الرحمن الرحیم شریف کا شان نزول کیا ہے؟ مفصل بیان فرمائیں! (۲) بسم اللہ الرحمن الرحیم شریف ہر نماز میں سری پڑھنا سنت ہے یا جہری؟ ہر نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم شریف سری پڑھی جاتی ہے لیکن تراویح کی نماز میں جب مختم قرآن پاک ہوتا ہے اس میں ایک مرتبہ جہر کیوں پڑھا جاتا ہے؟ اس میں کیا بہتری ہے؟ خلاصہ تحریر فرمائیں۔ (۳) تیجہ کا چنا جو عام طور سے لوگ خریدتے ہیں۔ اور کلمہ شریف پڑھوا کر بلا امتیاز اغنیاء مساکین میں تقسیم کرتے ہیں، اس چنے میں سے اغنیاء کو لینا کیسا ہے؟ کیا سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی کتاب میں یہ تحریر فرمایا ہے کہ اغنیاء کو تیجہ کا چنا لینا حرام ہے اور جو اس چنے کو کھاتے ہیں ان کا قلب سیاہ ہو جاتا ہے؟
الجواب: المستفتی محمد اشفاق رضانوری: قصبہ سہسوان ضلع بدایوں (یوپی) (۱) ہمارے ائمہ کے نزدیک بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت منفصلہ ہے جو سورتوں کے درمیان فصل کے لئے اتری اور سورہ فاتحہ یا کسی اور سورۃ کا جز نہیں۔ در مختار میں ہے: هي آية واحدة من القرآن كله انزلت للفصل بين السورو ليست من الفاتحة ولا من كل سورۃ فی الاصح واللہ تعالیٰ اعلم (۲) آہستہ پڑھنا چاہئے اور تراویح میں ایک مرتبہ جہراً پڑھنے کا استحبابی حکم ہے جبکہ تراویح ختم قرآن ہو یہ اس لئے کہ ایک آیت ختم میں جہری پڑھنے سے رہ نہ جائے اور سنت ختم ادا ہو جائے۔ علماء نے تصریح فرمائی کہ بغیر جہر کے سنت ختم ادانہ ہوگی۔ فواتح الرحموت میں ہے: ”البسملة من القرآن فی التراويح بالجهرمرة ولا تتأدى سنة الختم دونها ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۲۹ ذیقعده ۱۴۱۰ھ (۳) صبح الجواب۔ اعلیٰ حضرت قدس سرہ احکام شریعت جلد اول ص ۷۸ ر میں فرماتے ہیں : ” یہ چیزیں غنی نہ لے، فقیر لے اور جو اُن کا منتظر رہتا ہے، ان کے مرنے سے خوش ہو جاتا ہے، اس کا قلب سیاہ ہو جاتا ہے۔ فقیر لے کر خود کھائے اور غنی لے ہی نہیں اور لے لیا ہو تو مسلمان فقیر کو دے دے یہ حکم عام فاتحہ کا ہے نیاز اولیائے کرام طعام موت نہیں وہ تبرک ہے۔ فقیر و غنی سب لیں۔ یہ عبارت صاف طور سے واضح کر رہی ہے کہ غنی کے لئے حرام نہیں ہے۔ بہتر اور اچھا یہی ہے کہ فنی نہ لے اور نہ کھائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی (1) فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت الاصل الاول، ج ۲، ص ٦ ا ، دار الكتب العلمية، بيروت