امر بالمعروف و نہی عن المنکر پر عامل مستحق ثواب ہے!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ (1) حامد وخالد دونوں حقیقی بھائی ہیں اور دونوں ایک ہی مکان میں رہتے ہیں ۔ لیکن گھر کے بقیہ تمام معاملات الگ الگ ہیں۔ حامد کے لڑکے واجد نے اپنے کمرے میں ٹی وی لگائی۔ بگاڑ کے قبل خالد جو پیر طریقت اور ایک عالم دین ہے اور شرعی اصول پر اپنی زندگی گزار رہا ہے اسی واجد کے چھوٹے بھائی احمد کو بہت سمجھایا کہ گھر میں تم لوگ ٹی وی مت لگاؤ یہ خلاف شرع ہے لیکن احمد اور واجد نے اس کی کوئی پرواہ نہیں کی اور گھر میں ٹی وی لگا دی۔ اگر حامد چاہتا کہ وہ اپنے لڑکے کے کمرے سے خود ٹی وی ہٹا دے تو ہٹا سکتا تھا لیکن اس نے بھی ایسا نہیں کیا۔ خالد ایک پابند شرع عالم ہے، اس کو اس کی بے حد تکلیف ہے کہ دونوں بھائی ایک مکان میں رہتے ہیں لیکن واجد نے اپنے بچا کا بھی کوئی احترام نہیں کیا۔ خالد کوئی وی سے کوئی تعلق نہیں ہے صرف یہ کہ حامد اور خالد دونوں ایک مکان میں رہتے ہیں، کمرہ جدا جدا ہے۔ دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ خالد کا کوئی تعلق ٹی وی سے نہیں ہے اور یہ ٹی وی حامد کے لڑکوں کے کمرے میں ہے۔ اس صورت میں خالد پر کوئی الزام عائد ہوگا یا نہیں ؟ خالد کے پیچھے نماز پڑھنا، اس سے بیعت ہونا جائز ہے یا نہیں؟ تحریر فرمائیں۔ نیز حامد مورد الزام ہوگا یا نہیں ؟ اور اس کے پیچھے نماز پڑھی جاسکتی ہے یا نہیں؟ جلد جواب مرحمت فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔ (۲) واجد نے ایک زمین خریدی، اس زمین میں دوسرے فریق کا ترکہ زید نے لے لیا۔ اب واجد اور زید میں تنازع پیدا ہوا۔ واجد نے زمین پر قبضہ کرنے کے لئے چہار دیواری کھنچوائی، زید کے آدمی نے آکر اس دیوار کو گراد یا ۔ واجد کے بھائی ساجد نے تھانہ میں جا کر غلط ڈکیتی کیس زید پر کر دیا۔ یہ مقدمہ عرصہ تک چلتا رہا۔ واجد خود اس مقدمہ کے اخراجات برداشت کرتا رہا اور پیروی کرتا رہا۔ تحقیق طلب یہ ہے کہ واجد یچھے نمازہوگی یانہیں؟ واجد پرا اور کیا کمانا ہوگا روی کار متوفر ہیں کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں ؟ اور واجد پر از روئے شرع کیا حکم عائد ہوگا؟ تحریر فرما کر مشکور فرمائیں۔ المستفتی: سید علیم احمد پوسٹ و مقام حسن پورہ ضلع سیوان (بہار)
(1) صورت مسئولہ میں خالد پر الزام نہیں بلکہ وہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر پر عامل ہو کر مستحق ثواب ہے اور اس کے پیچھے نماز بے کراہت جائز جبکہ کوئی اور مانع شرعی نہ ہو اور حامد ملزم ہے جبکہ حتی المقدور اپنے بیٹوں کو برائی سے منع نہیں کرتا اور اسے امام بنا نا گناہ ہے جبکہ اس کا فسق ثابت ومشتہر ہو ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) واجد اور اس کے ہمنوا جھوٹے مقدمہ کو چلانے کے سبب اشد گنہ گار مستوجب نار مستحق غضب جبار ہیں اور واجد کو امام بنانا گناہ ہے جبکہ اس کا یہ جرم ثابت و مشہور ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۴/ ذوالحجہ ۱۴۱۰ھ