مسجد و مدرسہ کی مشترکہ زمین اور دکانوں کی آمدنی کے مصرف اور انتظامی کمیٹی کے تنازع کا معاملہ
ملی تو ہیں دوکانیں پلاٹ ہندو مسلمانوں کو کرایہ پر دے دیں اور ان لوگوں نے اپنی اپنی رقم سے دوکانیں بنوائیں جس کی کل لاگت کرایہ میں مجرا کی گئی یہ دو کا نہیں اس مدرسہ کی پشت میں اور اس مسجد کی پشت میں تعمیر ہوئیں، دوکانوں کے درمیان راستہ ہے جو آمد ورفت مسجد و مدرسہ کے لئے ہے۔ یہ اسی آراضی میں ہے اور قریب قریب وسط میں ہے جس سے دونوں کے حدود بنے ہیں، ان کو چلانے کے لئے ایک کمیٹی انتظامیہ بنادی گئی، عام مسلمانوں کی رائے سے وہ کمیٹی برسہا برس تک اس کام کو یعنی مسجد و مدرسہ چلاتی رہی، اب جبکہ بستی کی آبادی زیادہ بڑھی تو مسجد مدرسہ کی ضرورت کے مطابق توسیع کی گئی پھر بھی کافی آراضی خالی پڑی ہے، اسی آراضی میں باغ ہے، اس باغ اور دوکانوں کی آمدنی لگ بھگ ڈھائی ہزار روپے ماہوار جو مدرسہ و مسجد کے اخراجات کے لئے کافی ہے، اس بڑھتے ہوئے کام کی صورت میں عام مسلمانوں نے ایک میٹنگ کی تاکہ ضرورت سمجھ کر انتظامیہ کمیٹی میں کچھ لوگوں کا اضافہ کر دیا جائے اس پر انتظامیہ کمیٹی نے اپنی رائے ظاہر کی کہ مدرسہ کا کام زیادہ بڑھ گیا ہے اس کو چلانے کے لئے مدرسہ کی انتظامیہ کمیٹی بنادی جائے تا کہ کام مدرسہ مسجد کا بخوبی چلتا رہے۔ لہذا کمیٹی بن گئی اور دونوں کمیٹیوں کو لکھنو سے رجسٹرڈ کرالیا گیا جس سے مدرسہ و مسجد کا کام بخوبی چلنے لگا، مدرسہ کی تعلیم کو بڑھا دیا گیا اور اس میں ناظرہ حفظ قرآن اور دینیات عربی و فارسی کا بھی انتظام کیا گیا۔ اب مسجد و مدرسہ کی رونق بڑھی تعلیمی معیار بلند ہوا، بچوں کی تعداد کافی بڑھ گئی ، بریلی شریف کے فارغ مدرسین کا اضافہ کردیا گیا جبکہ مدرسہ کے اخراجات کا معاملہ آیا تو انتظامیہ کمیٹی مسجد نے مدرسہ کمیٹی سے کہا کہ خرچ ہم اپنے ہاتھ سے کریں گے، آپ لوگ صرف تعلیمی نظام کی دیکھ بھال کریں، مدرسہ کمیٹی نے اس بات کو بخوشی منظور کر لیا۔ کچھ ماہ تک مسجد کمیٹی مدرسہ کمیٹی کو اخراجات دیتی رہی اس بڑھتے ہوئے تعلیمی نظام کو دیکھ کر کچھ وقار پسند اور مفاد پسند لوگوں نے جب یہ دیکھا کہ رقم جس سے لوگ اپنے کاروبار چلاتے تھے ، اب مسجد و مدرسہ کے کام میں وہ رقم خرچ ہو رہے ہیں اور ساری آمدنی کو جائز طریقہ سے خرچ کیا جاتا ہے، دیکھ کر اختلاف و انتشار کی باتیں شروع کر دیں تا کہ انتظامیہ کمیٹی مسجد و مدرسہ میں جھگڑا ہو اور ہمارا الوسیدھا ہو ۔ سوال اُٹھایا کہ یہ صرف مسجد کی آمدنی ہے، مدرسہ کی نہیں اور کس نے کہا کہ مسجد کی رونق مدرسہ کی تعلیم سے ہے؟ جس کی وجہ سے دونوں کمیٹیوں کو الجھن پیدا ہو رہی ہے اور ڈر ہے کہ حالات مکدر نہ ہو جائیں تو دریافت طلب امر یہ
الجواب:صورت مسئولہ میں جب چندہ دہندگان مسجد و مدرسہ دونوں کو چندہ دیتے ہیں اور ان کی رضا سےچندہ دونوں پر صرف ہوتا ہے تو صاف ظاہر ہے کہ چندہ مشترک ہے، دونوں پر جائز طور پر خرچ ہوتا رہےگا جو لوگ بے وجہ شرعی جھگڑا ڈالتے اور فتنہ و فساد افتراق بین المسلمین کرتے ہیں،سخت گناہ گار ظالمجفا کار متفق غضب جبار ہیں، ان سب پر تو بہ لازم ہے اور آئندہ فتنہ کی جڑ کاٹنے کے لئے عامتہ المسلمینکی متفق رائے سے دونوں کے لئے آمدنی تقسیم کر دی جائے اور دونوں کا ایک ایک پابند شرع امین خزانچیمقرر کر دیا جائے جو مصالحہ جائزہ شرعیہ متعلقہ میں ہر دو پر صرف کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلمفقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلهالجواب صحیح والحجب صبح ۔ اللہ تعالی اعلمقاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی۲۱ رشوال المکرم ۱۳۹۶ھ