فی زمانا ائمہ اربعہ کا کوئی بھی ہمسر و ہم رتبہ نہیں، غیر مقلدین بے دین ہیں!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسائل ذیل میں کہ: (1) کیا موجودہ زمانے میں اپنے کو اہل حدیث کہنے والے غیر مقلد امام ابوحنیفہ، امام شافعی ، امام مالک، امام احمد بن حنبل علیہم الرحمہ کے جیسا علم رکھتے ہیں اور ان کی طرح حدیث شریف کو سمجھتے ہیں؟ ان کی علمی حقیقت کو ظاہر کرنے کی صورت کیا ہے؟ (۲) اگر وہ لوگ ان ائمہ کرام کی طرح علم نہیں رکھتے ہیں اور اس کے باوجود ان میں سے کسی کی تقلید نہیں کرتے ہیں بلکہ حدیث و قرآن سے بغیر علم مطلب نکال کر فتوی دیتے ہیں تو ایسے لوگوں کا کیا حکم ہے؟ (۳) ابن تیمیه حرانی، ابن عبد الوہاب نجدی ، عبد الرحمن بن حسن نجدی وغیرہ غیر مقلدوں کے پیشوا اللہ تعالیٰ کے لئے ہاتھ پیر وغیرہ ظاہری معنی کے اعتبار سے استواء مانتے ہیں یا نہیں؟ (۴) اگر وہ لوگ ایسا مانتے ہیں تو ایسے لوگوں کا کیا حکم ۔ المستلقی شیخ عبد الغنی ، مقام مصطفی پور، پوسٹ (بلو ضلع باکسر ( اڑیسہ )
الجواب: (1) ان جیسا علم تو در کنار ، علوم حدیث میں ان کے مقلد محدثین کا بھی ان میں کوئی ہمسر نہیں بلکہ یہ اصطلاحات حدیث میں انہیں محدثین کے مقلد ہیں اور ان کا ہمسر ہونا تو در کنار حفظ و فہم احادیث میں سید نا اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان جو بہت بعد میں ہوئے کا بھی کوئی ہم رتبہ نہیں ۔ ومن ادعی فعلیہ البیان ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) گمراہ بے دین، کما صرح به الطحاوی والصاوی وغیر ہما۔ بلکہ غیر مقلدان زمانہ کا فر کہ کھلے مرتدین دیابنہ کو مسلمان جانتے ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) ابن تیمیہ کے متعلق فتاوی حدیثیہ میں نظر سے گزرا کہ اس نے نزول کی تفسیر میں منبر پر سے اتر کر بتایا کہ اس طرح اللہ تعالیٰ نزول فرماتا ہے اور غالباً استواء کے ظاہری معنی کا قائل بھی تھا اور یہ ہاتھ پیر ماننے کو مستلزم ہے اور محمد بن عبد الوہاب نجدی ابن تیمیہ کو امام و مقتدا مانتا ہے تو ضرور اس کے معتقدات کا قائل ہوا مگر تفریح اس امر کی ان کی کتابوں میں دیکھنے کا موقع نہ ملا بلکہ کتابیں ان کی دستیاب ہی نہیں اور ابن تیمیہ گمراہ گمراہ گمراہ اور نجدی اس سے بھی گھر ہی میں آگے ہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۳ / رجب المرجب ۱۴۰۲ھ