تقلید ائمہ کی ضرورت اور غیر مقلدین کے نظریات کا رد
بے تقلید چارہ کار نہیں ہے اور غیر مقلدین نے تقلید کا انکار کر کے ایسے مسائل گڑھے ہیں جن کا کوئی بھی مسلمان قائل نہیں ہے! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: کوئی یہ کہے کہ چاروں اماموں مثلا امام اعظم ، امام شافعی ، امام حنبل اور امام مالک رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی ضروت نہیں ، ہم قرآن و حدیث خود سمجھیں گے، اماموں کی ضرورت نہیں ۔ تو ایسے لوگوں کے متعلق کیا حکم ہے؟ اور اماموں کی تقلید قرآن وحدیث سے ثابت ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو کس آیت یا حدیث سے ثابت ہے؟ اور ایک یہ کہتا ہے کہ جب یہ مسئلہ بتایا جاتا ہے کہ مسجد کے اوپر یعنی چھت
کے ص ۵ / اور طریقہ محمدیہ کے ص ۱۵/ میں نجاست کو صرف سات چیزوں میں منحصر کر دیا ہے۔ باقی کو اصل اشیاء میں طہارت پر جاری کیا ہے جب تک نقل خبر معارض وارد نہ ہو۔ اس عبارت سے مرغی کا گوہ یا سوئر کا موت یا کتے کا پیشاب ان کے طور پر نجس نہیں ہے۔ یہ تقلید نہ کرنے کے سبب ہے۔ ولاحول ولاقوۃ الا باللہ ۔ اور تقلید ، قرآن وحدیث سے ثابت ہے۔ مطلق تقید کا حکم ان آیتوں میں دیا گیا ہے: اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (1) ہم کو سیدھا راستہ چلا ، اُن کا راستہ جن پر تو نے احسان کیا۔ دوسری آیت کریمہ: (٢) اطِيْعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُوْلَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ (۲) اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اور علم والوں کی جو تم میں سے ہوں۔ یہاں اولی الامر سے علماء و ائمہ دین مراد ہیں ۔ تیسری آیت میں ہے: فَسْتَلُوا أَهْلَ الذِّكَرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (۳) تو اے لوگو اعلم والوں سے پو چھوا گرتم کو علم نہیں۔ دار می شریف باب الاقتداء بالعلماء میں ہے: اخبرنا يعلى حدثنا عبد الملک عن عطاء { أطِيعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولى الْأَمْرِ مِنْكُمْ} قال اولو العلم والفقه طاعة الرسول اتباع الكتاب والسنة (٢) یعنی خبر دی ہم کو یعلی نے انہوں نے کہا مجھ سے کہا عبدالملک نے انہوں نے عطاء سے روایت کی ،، کہ اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور اپنے میں سے امر والوں کی ، فرمایا عطاء نے کہ اولی الامر علم اور فقہ والے حضرات ہیں۔ اور تفسیر در منثور میں آیت {فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ} کی تفسیر میں ہے: اخرج ابن ابی حاتم عن سعيد بن جبير ان الرجل ليصلي ويصوم ويحج ويعتمر وانه لمنافق قيل يا رسول الله بماذا دخل عليه النفاق؟ قال: يطعن علی امامه و امامه من قال الله في كتابه { فَسْتَلُوا أَهْلَ الذِكرِ إِن كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ} () ابن ابی حاتم سعید ابن جبیر سے نقل کرتے ہیں کہ بعض شخص نماز پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، حج اور عمرہ کرتے ہیں حالانکہ وہ منافق ہیں ، عرض کی گئی یا رسول اللہ ! کس وجہ سے ان میں نفاق آ گیا ؟ فرمایا کہ اپنے امام پر طعنہ کرنے کی وجہ سے، امام کون ہے؟ فرما یا رب نے : { فَسْتَلُوا أَهْلَ الذِّكَرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ} (۲) اور قرآن عظیم میں ارشاد ہوا: وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا (۳) اور جو رسول کی مخالفت کرے بعد اس کے کہ حق راستہ اس پر کھل چکا اور مسلمانوں کی راہ سے جدا راستہ چلے ، ہم اس کو اس کی حالت پر چھوڑ دیں گے اور اس کو دوزخ میں داخل کریں اور کیا ہی بُری جگہ ہے پلٹنے کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو راستہ عام مسلمانوں کا ہواس کو اختیار کرنا برحق ہے اور تقلید پر ائمہ مذاہب کا اور تمام مسلمانوں کا اجماع ہے۔ اور حدیث مشکوۃ میں ہے: اتبعوا السواد الاعظم فانه من شذ شذ في النار (۴) بڑے گروہ کی پیروی کرو کیونکہ جو جماعت مسلمین سے علیحد ور ہا، وہ علیحدہ کر کے جہنم میں بھیجا جائیگا۔ اور یہ بات ثابت ہے کہ سواد اعظم مسلمانوں کا وہی گروہ ہے جسے اہل سنت و جماعت کہتے ہیں وہ تقلید ائمہ کو ضروری جانتا ہے خواہ حنفی ہو یا شافعی یا منیلی یا مالکی۔ اس سبب سے علماء نے فرمایا کہ جو شخص ان سے علیحد و ہوا، وہ گمراہ، بددین ہوا بلکہ بحکم فقہ کفار و مرتدین سے ہے۔ اور جو شخص تقلید کو مطلقاً شرک و منافی ایمان کہے وہ قرآن وحدیث و اجماع امت کا منکر ہے اور یہ کفر ہے۔ کشف بزدوی میں ہے: رجوع العامى الى قول المفتى وجب بالنص و الاجماع ) ملخصاً فصول البدائع میں ہے: ،، للعامي تقليد المجتهد في فروع الشريعة “(۲) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله