علماء کی شان میں گستاخی اور توہین کرنے والے کا شرعی حکم
اور بریلی شریف کے فتوی کو بھی نہیں مانتا۔ اور علمائے اہل سنت بریلی کو ماں کی گالیاں دیتے ہوئے یہ کہتا ہے کہ یہ لوگ بیاج کو جائز کہتے ہیں اور اسی طرح علمائے کرام کی شان میں توہین آمیز کلمات کہتا ہے ایسے آدمی کیلئے جو میلاد پاک کے چندہ سے گریزاں ہو اور علمائے کرام کی شان میں مخش بکتا ہو اس کے ساتھ اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے ۔ تاکہ ان کے لئے ایک تنبیہ ہواور علمائے کرام کی شان میں فحش نہ بکیں براہ کرم حکم شرع سے میں سے مطلع فرمایا جائے۔ فقط والسلام
الجواب: علمائے کرام کی شان میں گستاخی حرام اشد حرام بد کام بد انجام بلکہ کفر ہے اشتباہ میں ہے: "الاستهزاء بالعلم والعلماء كفر" گالی بکنا حرام ہے اور کسی مسلمان کو گالی دینا بہت سخت ممنوع پھر علماء کو گالی دینا کس درجہ شدید وعظیم گناہ ہوگا؟ اس جری بے باک سے چندہ نہ دینے کی شکایت کیا جو علماء کی تو ہین کر کے ایمان ہی سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ تو بہ وتجدید ایمان و تجدید نکاح کرے۔ ورنہ ہر مسلمان واقف حال اسے چھوڑ دے۔ یہی حکم ان کا ہے جو اس کے اقوال بد میں شریک ہوں یا ان اقوال بد سے راضی ہوں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۲۶ / جمادی الآخره ۱۴۰۲ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی