علماء کی شان میں گستاخی، گالیاں دینے اور توہین کرنے والے پر کفر اور بائیکاٹ کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ : جلسه مبارک میلاد شریف ذکر اللہ و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلے میں سماجی چندہ منعقد کیا گیا جب محمد ابراھیم عرف باٹا سے چندہ کا مطالبہ کیا گیا تو اس نے چندہ دینے سے انکار کر دیا ہے اور بریلی شریف کے فتوی کو بھی نہیں مانتا۔ اور علمائے اہل سنت بریلی کو ماں کی گالیاں دیتے ہوئے یہ کہتا ہے کہ یہ لوگ بیاج کو جائز کہتے ہیں اور اسی طرح علمائے کرام کی شان میں توہین آمیز کلمات کہتا ہے ایسے آدمی کیلئے جو میلاد پاک کے چندہ سے گریزاں ہو اور علمائے کرام کی شان میں مخش بکتا ہو اس کے ساتھ اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے ۔ تاکہ ان کے لئے ایک تنبیہ ہواور علمائے کرام کی شان میں فحش نہ بکیں براہ کرم حکم شرع سے مطلع فرمایا جائے۔ فقط والسلام
علمائے کرام کی شان میں گستاخی حرام اشد حرام بد کام بد انجام بلکہ کفر ہے اشتباہ میں ہے: ''الاستهزاء بالعلم والعلماء كفر'' گالی بکنا حرام ہے اور کسی مسلمان کو گالی دینا بہت سخت ممنوع پھر علماء کو گالی دینا کس درجہ شدید وعظیم گناہ ہوگا؟ اس جری بے باک سے چندہ نہ دینے کی شکایت کیا جو علماء کی تو ہین کر کے ایمان ہی سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ تو بہ وتجدید ایمان و تجدید نکاح کرے۔ ورنہ ہر مسلمان واقف حال اسے چھوڑ دے۔ یہی حکم ان کا ہے جو اس کے اقوال بد میں شریک ہوں یا ان اقوال بد سے راضی ہوں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ