جو کسی عالم سے بے وجہ شرعی بغض رکھے اس پر اندیشہ کفر ہے
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ایک شخص جو کہ پنجوقتہ نمازی ہے اور حاجی بھی ہے عقیدے سنی کے ہیں مگر شخص مذکور نے ایک سنی صحیح العقیدہ مسلمان کو بلا وجہ کافر کہہ دیا کہ وہ بعد ہر نماز کے کلمہ شہادت یا کلمہ طیب زور سے نہیں پڑھتا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں : ” تم نے زور سے کلمہ شہادت نہیں پڑھا ہے، اس لئے تم کافر ہوئے“۔ جب اس حاجی سے کہا گیا کہ آپ نے غلط لفظ استعمال کیا ہے، کیا میں بریلی شریف سے فتویٰ منگاؤں؟ تو اس نے برجستہ جواب دیا کہ ہم بریلی والوں کو نہیں مانتے ۔ اس کے علاوہ دوسرے مغلظات کہنے لگا۔ قرآن و
الجواب: حاجی مذکور نے اگر فی الواقع اس وجہ سے کسی مسلم کو کا فر کہا کہ اس نے زور سے کلمہ شہادت نہیں پڑھا تو پس شریعت مطہرہ پر افتراء کیا اور اس پر اس کلمہ سے تو بہ لازم ہے اور تجدید ایمان بھی فرض ہے اور بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے۔ اور مغلظات بکنا حرام بدکام بدانجام ہے۔ اسلئے بھی تو بہ لازم ہے اور علمائے دین سے بغض و عناد بھی سخت مضر اسلام ہے۔ ہندیہ میں ہے: من ابغض عالما من غير سبب ظاهر خيف عليه الكفر (۱) جو کسی عالم سے بے وجہ بغض رکھے اس پر اندیشہ کفر ہے۔ حاجی مذکور کا یہ کہنا کہ ہم بریلی والوں کو نہیں مانتے ، بے وجہ علماء سے بیر کی کھلی دلیل ہے۔ ان تمام باتوں سے وہ شخص تو بہ شرعیہ کرے۔ ورنہ ہر مسلمان واقف حال اسے چھوڑ دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم شب ۱۰ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۸ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی