پیر کی اہانت اور علما کی گستاخی نہایت سخت ہے
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں کہ: (۱) ہمارے یہاں ایک پان کی دکان ہے وہاں ہمیشہ دو چار آدمی خاص کر بیٹھے رہتے ہیں اور ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہتے ہیں ایک مرتبہ زید نے ان لوگوں کو کہہ دیا کہ کیا اس کو دار اللہ بنارکھے ہو؟“ تو کیا دار اللہ کہہ دینے سے زید کا فر ہو گیا ؟ اس کو کلمہ پھر سے پڑھنا پڑے گا ؟ جواب دیں۔ (۲) پیر کی شان میں سخت ست، کمینہ یا بُرا بھلا کہنا اور علما کو گندےلفظوں سے کہنا یا گستاخی کرنا کیسا ہے؟ شریعت کے حکم سے آگاہ کریں کوئی کہے کہ پیر کو اٹھا کر طاق پر رکھ دیا۔ ایسے پیر کی ضرورت نہیں ہے۔اس کو کیا کرنا چاہئے؟ (۳) بازار میں بغیر ضرورت کے دوکان پر بیٹھنا اور مسلمانوں میں اختلاف پیدا کرنا، ایک دوسرے کی شکایت کرنا جس سے فتنہ پیدا ہو، ایسے مسلمانوں کا کیا حکم ہے؟ شریعت کی رو سے جواب دیں۔ المستفتی: عبد الجلیل
الجواب: (1) اس کلمہ سے زید معاذ اللہ ہرگز کافر نہ ہوا۔ اس لیے اس پر تجدید ایمان واجب نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) بے وجہ شرعی کسی ادنی مسلمان کی توہین حرام بد کام بد انجام ہے۔ پیر کی اہانت اور علما کی گستاخی تو نہایت سخت و بال کی موجب ہے۔ اشباہ میں ہے: الاستهزاء بالعلم والعلماء كفر (1) علم اور علماء کا مذاق کفر ہے جس نے پیر کے متعلق وہ جملہ بے وجہ شرعی کہا اس پر تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) تفریق بین المسلمین اور غیبت حرام بد کام بد انجام اور بلا ضرورت بازاروں میں بیٹھنا بھی محل تہمت ہے، ایسے لوگوں پر تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۲۳ / جمادی الثانی ۱۳۹۸ھ (1) الاشتباه والنظائر مع الحموى باب الردة، كتاب السير، ج ۲، ص ۸۷، زکریابکڈپوسہارنپور