علماء کی توہین اور بد مذہبوں سے میل جول رکھنے والے عالم کی امامت کا حکم
تم کا فر ہو گئے، تمہارا نکاح ٹوٹ گیا، ٹوٹ گیا، اب اس بات کو سن کر لوگ تحقیقات کی ٹیڑھی میڑھی مجلس میں زید کی اور عمر و عالم دین کی بات سنی گئی بعد کو عمر و عالم دین نے کہا کہ میں نے جوفتویٰ کافر ہونے کا دیا تھا۔ صحیح ہے۔ مگر زید کا نکاح اس قسم کے الفاظ سے نہیں ٹوٹا ہے۔ صرف زید کو تجدید ایمان کرا دیں۔ اس مجلس میں دو عالم دین موجود تھے۔ دونوں عالم دین نے کہا کہ زید اور عمر پر تجدید ایمان وتو بہ واستغفار لازم ہے یہ کہاں تک صحیح ہے؟ قرآن وحدیث سے جواب عنایت فرمائیں ۔ عمر و عالم دین ایک اہل حدیث کے گھر کھانا بھی کھاتا ہے۔ (۲) اور جامع مسجد میں امامت کرتا ہے عمر و عالم دین حضور مفتی اعظم ہند کا مرید ہے یہ سنی صحیح العقیدہ بھی ہے پھر ایک اہل حدیث کے گھر کھاتا بھی ہے اس امام کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں؟ اور وہابی لوگوں کو سلام بھی کرتا ہے۔ وہابیوں سے میل جول بھی ہے۔ قرآن وحدیث سے جواب عنایت فرما ہیں۔ امستفتی: ماسٹر محمد قمر الدین مسکونہ راس کھوا باز ارضلع مغربی دیناج پور، (بنگال
الجواب: (1) علمائے دین کی توہین سخت حرام بد کام بد انجام بلکہ کفر ہے جبکہ اس کے علم کی وجہ سے اسکی تو ہین کرے۔ اشباہ میں ہے: ،، الاستهزاء بالعلم والعلماء كفر ) اور اگر اس کے علم کی وجہ سے اس کی تو ہین مقصود نہ ہو بلکہ کسی عالم مبتلائے فسق کے حال کی تنقیح تشنیع مقصود ہو توحکم کفر نہیں۔ علمائے دین پر اعتراض کا حق جاہل کو نہیں پہنچتا لما جاہلوں کے لئے ھادی و رہنما ہیں نہ کہ جاہل علما کے رہنما بلکہ جاہل کو لازم ہے کہ عالم کا جو فعل اپنی نظر میں خلاف شرع معلوم ہوا سے مصلحت شرعیہ کے تحت محمول کرے اور زبان طعن دراز کرنا در کنار هرگز بدگمانی نہ کرے بلکہ یہ حکم ہر مسلم کے لئے ہے اور عالم کے لئے زیادہ مؤکد۔ زید کے کلمات میں دونوں صورتوں کا احتمال ہے اور دوسری صورت یعنی شیح عمل و تشنیع حال اظہر ہے۔ اور یہ اس صورت میں ہے جبکہ کچھ خصوصین سے تعریض مقصود ہو جو واقعی بظاہر (1) الاشباة والنظائر مع الحموى باب الردة، كتاب السير ج ۲، ص۸۷، زکریابکڈپوسہارنپور خلاف شرع امور کے مرتکب ہوں اور اگر ایسا نہیں تو زید علمائے دین پر مفتری اور ان پر بہتان جڑنے والا اور اس صورت میں اس کے کلمات اسی پہلی صورت کی طرف راجع اور ان کا حکم وہی حکم جو گزرا اور اسے تو بہ وتجدید ایمان و تجدید نکاح لازم ۔ عالم نے پہلے حکم صحیح دیا بعد میں جو تفرقہ کیا وہ بیچ نہیں۔ واللہ تعالی اعلم (۲) اگر اس کے یہ افعال بد شرعاً ثابت و مشتہر ہیں تو وہ سخت فاسق معلن بلکہ مشتبہ الحال ہے۔ اسے امام بنانا سخت گناہ اور اس کی اقتداء میں نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ بلکہ بصورت اشتباه فی العقیدہ نماز نا درست ۔ واللہ تعالیٰ اعلم صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۴ محرم الحرام ۱۴۰۵ھ