علماء کی توہین، نسیم اختر سے متعلق عقیدہ اور مقامات مقدسہ کی تنقیص کا حکم
(1) زید حاجی ہے اس کے گھر ویڈیو اور ٹی۔ وی ۔ ہے جبکہ وہ خود دیکھتا ہے اور گھر والوں کو بھی دکھواتا ہے۔ زید جبکہ سید نیم اختر عرف نیم سرکار کا قریبی چاہنے والا ہے اور سید سیم اختر کو اپنا پیر مانتاہے اور وہ پیر زید کے گھر آتے ہیں ایک دن بکر نے کہا کہ نسیم اختر عرف نیم سرکار کے او پر یعنی اقوال پر علمائے کرام ومفتیان عظام نے کفر کا فتویٰ لگایا ہے لہذا سیدنسیم اختر عرف نیم سرکار سے الگ رہنا چاہئے۔ بس کیا تھا زید حالت غصہ میں کمیٹی والوں سے کہنے لگا کہ جو بھی علمائے کرام ہمارے سرکا رسید نسیم اختر کے اوپر کفر کا فتو ی لگاتے ہیں وہ سب کے سب مردود ہیں اس وقت یہ علمائے کرام مر گئے تھے جس وقت حضور مجاہد ملت علیہ الرحمہ سید نسیم اختر کی قدم بوسی کرتے تھے لہذازید پر شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ مدلل جواب سے نوازیں۔ کرم ہوگا۔ (۲) بکر سید نیم اختر عرف نیم سرکار کو نہیں مانتا آیا بکر کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟ اور بکر سے سلام و کلام کرنا جائز یا نا جائز ؟ جو لوگ بکر سے سلام و کلام اور بکر کی اقتدا میں نماز پڑھنا نا جائز کہتے ہیں ایسے لوگوں کے بارے میں شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ مدلل جواب سے نوازیں۔ (۳) ایک امام صاحب کا کہنا ہے کہ عرب و عراق اتنی گندی جگہ ہے اس جیسا اور کہیں نہیں اور ہندوستان اتنی پاک جگہ ہے اس جیسا اور کہیں نہیں۔ لہذا از روئے شرع ایسے امام صاحب کے اوپر کیا حکم ہے؟ المستفتی: عبدالقدير رضوی مقام و پوسٹ و دھیادھر پور، وایا باستہ ضلع بالاسور، اڑیسہ
الجواب: (1) سید نسیم اختر صاحب عرف نیم سرکار کے متعلق علماء کا متفقہ فیصلہ چھپ چکا ہے اس کی طرف رجوع کیجئے اور علمائے کرام کومردود کہنا خود مردود ہونا ہے۔ اس شخص پر لازم ہے کہ علماء کا فیصلہ مانے ۔ اور علماء کی توہین سے تو بہ کرے اور تجدید ایمان بھی کرے اور بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) بکر سے سلام و کلام بند کرنا اس وجہ سے کہ وہ فلاں کو نہیں مانتا، جائز نہیں اور نہ اس وجہ سے اس کی اقتد ا سے باز رہنا جائز پھر اگر بکر لائق امامت ہے اور موانع امامت مفقود ہیں تو بکر شرعی امام ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) تو بہ کرے اور تجدید ایمان بھی کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم