جھوٹے دعویٰ مہدویت، علماء کی توہین اور لوگوں کو گمراہ کرنے والے کا شرعی حکم
کہتا ہے کہ اوپر سے حکم ہے۔ اگر اس سے کوئی کہتا ہے کہ علمائے کرام کے پاس چلو علمائے اہل سنت تمہاری تصدیق کریں تو ہم لوگ بھی مان لیں تو کہتا ہے کہ مجھے کہیں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ میرے پاس خود لا ؤ اگر کوئی اس کے پاس جاتا ہے تو اس کے دو بھائی اور لڑ کے اور کچھ لوگوں کو بہ کا کراپنے گروپ میں لے لیا ہے ان لوگوں کو لے کر مار پیٹ پر آمادہ ہوتا ہے، گالی دیتا ہے، کتا، سور، مردود بناتا ہے۔ آہستہ آہستہ اس کا گروپ بڑھتا جارہا ہے۔ دریافت طلب امر ہے کہ وہ شخص جو اس قسم کی حرکتیں کرتا ہو وہ مومن ہے یا کافر یا فاسق و فاجر ہے؟ جولوگ اس کے ساتھ ہیں، اس کی ہر طریقے سے مدد کرتے ہیں ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟ عرض ہے کہ اس کا جواب جلد از جلد روانہ فرمانے کی زحمت گوارہ فرمائیں ورنہ مسلمانوں میں قتل وقتال کا سخت اندیشہ ہے۔ المستنتی رضی احمد نام اصفر حمد علی رضوی و دیگر برادران منصوری دار العلوم گلشن مدینه، پرتاپ گڑھ، یونی
الجواب: وہ شخص اپنے اس دعوے میں کہ وہ مہدی ہے، مفتری کذاب ہے۔ یونہی اس کا یہ کہنا کہ ”میرے مرنے کے بعد - الح شریعت مطہرہ پر افتراء ہے اور نبی علیہ السلام کی خصوصیت کا ادعا ہے۔ جو کفر ہے۔ اور علماء کی تو ہین بھی کفر ہے۔ اس شخص پر تو بہ وتجدید ایمان و تجدید نکاح لازم ہے۔ جب تک وہ سچی توبہ نہ کرے ہر مسلمان اسے چھوڑ دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم اس کی تصدیق کرنے والے بھی اسی کی طرح ہیں اور اس کی نری امداد بھی کرنا گناہ شدید ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ شب ۴؍رجب المرجب ۱۳۹۹ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی