ناگوری قومی جماعت کے قیام اور معاشرتی اصلاحی کاموں کی شرعی حیثیت اور زید کے اعتراضات کا جواب
اپنے فتوئی کو عوام میں شائع کیا لوگوں میں بھگدڑ مچائی۔ ایسی صورت میں زید کے لئے شرعی حکم کیا ہے؟ (9) مذکورہ جماعت کے قیام سے قبل برادری میں ہزاروں روپے کی آتش بازی ہوتی تھی ویڈیوفلم سر عام چلتے تھے من کا سر عام ہوتا تھا جس میں بچے تک ملوث تھے مگر بفضلہ تعالیٰ جماعت کی پابندی سے یہ امور غیر شرعیہ بند ہو گئے جہاں تعلق کا بھاؤ بظاہر ناممکن ہوتا ہے تو جماعت کی کوشش اور علمائے کرام کے مشورہ سے طلاق دینے اور خلع کرنے کی پوری اجازت ہے کتنے واقعات اس پر شاہد ہیں اس جماعت کے قیام سے پہلے کئی عورتیں اپنے خاوندوں کو چھوڑ کر اپنے میکہ بیٹھی تھیں اور ان کے گھر جانے سے انکار کرتی تھیں مگر اب جماعت کی کوشش سے ضلع وصفائی کے ذریعہ اپنے خاوندوں کے ساتھ اچھی طرح زندگی بسر کرتی ہیں۔ اب حضرت سے گزارش ہے کہ ایسی جماعت کا قائم رکھنا امر مستحسن ہے یا اس جماعت کا توڑنا اور ہر ایک کو کھلی چھوٹ دینا ضروری ہے شریعت مطہرہ کا جو حکم ہو گا اس پر عمل کیا جائیگا۔ نوٹ: ایک ہی دفعہ ساری برائیوں کا خاتمہ اس دور پرفتن میں بہت مشکل ہے آہستہ آہستہ علمائے کرام کی تبلیغ اور جماعت کی کوشش سے ان برائیوں کو دور کیا جا رہا ہے۔ (۱۰) زید کو یہ تسلیم ہے کہ کثرت طلاق سے لوگ جھگڑوں اور نا اتفاقیوں میں ڈوبے جارہے ہیں اور باسنی میں یہی معاملہ ہے کیا عوام کو کھلے طور پر چھوٹ دینے کے لئے طلاق کی اباحت ہے کیا طلاق کے بارے میں ” ولنا ان الاصل في الطلاق الحظر “ ( هدایه ج ۲، ص ۳۳۵) سے طلاق ناجائز ثابت نہیں ہوتی کیا طلاق کے لئے حکم کرنا اور برادری میں معاملہ پیش کر کے میاں بیوی کے اختلاف کو ختم کروانے کی کوشش کرنا مطلوب شرع متین ہے؟ بینوا توجروا
الجواب: المستفتی: ناگوری قومی جماعت باسنی ضلع ناگور راجستھان/ ۱۲ محرم الحرام ۱۴۱۰ھ (۱) نہیں۔ زید نے جو دعویٰ کیا ہے اس کا ثبوت شرعی بہم پہنچائے ورنہ وہ سخت ملزم وگنہ گار ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) ممبران کا وہ حکم بر تقدیر صدق سوال ہے پوری قوم کا نہیں مگر اس صورت میں جبکہ پوری قوم اس خلاف شرع امر کو مقرر رکھے اور اس سے راضی رہے اور توبہ کا دروازہ ابھی کھلا ہے ۔ تو بہ ضرور نفع دے گی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ اعلم (۴) نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) کسی خاص مسئلہ میں حق پر کون ہے یہ دونوں فریق کے بیانات سن کر ہی بتایا جاسکتا ہے البتہ زید کا دعوئی محتاج ثبوت ہے اور جماعت کی فیصلہ شرعیہ پر آمادگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ زید کا دعویٰ غلط ہے اور خاموشی کو قول ٹھہر انا صحیح نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) زید اگر علمائے دین کی بدگوئی بے وجہ شرعی کرتا ہے تو سخت گنہ گار ہے اس پر لازم ہے کہ تو بہ کرے اور جن لوگوں کی بدگوئی کی اگر انہیں خبر پہنچی ہو تو ان سے معافی چاہے اور کوئی وجہ شرعی ہے تو بیان کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷) ناجائز و گناہ ہے جبکہ بے وجہ شرعی ملتا ہو اور وجہ شرعی ہے تو بیان کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۸) گنہ گار ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۹) فی الواقع اگر جماعت ازالہ منکرات اور اصلاح عوام میں شرعی طور پر کوشاں ہے یوں کہ کوئی ناجائز پابندی نہیں لگاتی نہ کسی کا ناجائز طور پر بائیکاٹ کرتی ہے تو یہ جماعت جماعت خیر وصلاح ہے۔ اس کا قیام امر مستحسن ہے اسے توڑ دینا بہت نقصان کا باعث ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۰) طلاق شرعاً مباح ہے مگر البغض المباحات عند اللہ ہے۔ حدیث میں ہے: ابغض الحلال الی الله الطلاق (1) اور مباح کا نیت فاسدہ سے حرام ہونا اور نیت خیر سے مندوب ہونا شرعاً امر مقصود ہے۔” لأن الامور بمقاصدها “(۲) انما الاعمال بالنيات وانمالامرءمانوی “(۱) اور اس کی نظیر رجعت ہے کہ فی نفسہ مباح ہے اور اضرار کی وجہ سے نیت سے شرعاً منع ہے۔ قال تعالیٰ: وَلا تُمْسِكُوهُنَّ فِرَارً ا لَّتَعْتَدُوا - الآية (٢) تو طلاق فی نفسہ مباح ہونے کے باوجود نیت فاسدہ سے حرام ہوگی جس طرح نیت خیر سے مندوب اور کبھی واجب کے درجہ تک پہنچے گی۔ فی الواقع ام متحقق ہو کہ فلاں شخص نے نیت فاسدہ سے طلاق دی ہے یا غیر شرعی طور پر طلاق دی ہے تو اس کا شرعی طور پر بائیکاٹ کرنا کہ مجبور ہوکر تو بہ کرے جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی