علماء کی اہانت اور قرآن و حدیث کی اتباع سے انکار کرنے والوں پر شرعی حکم
دو ہنا اسٹیشن سے دکھن جانب ایک کنجی کا درخت ہے اس میں کچھ لکھا ہوا معلوم ہوتا ہے اس چیز کے متعلق ناجائز اور حرام کا فتویٰ جاچکا ہے جن کو عام مسلمانوں نے تسلیم کر لیا ہے مگر دوہنا کے عمر و اور بکر وغیرہ حضرات نے اس فتوے سے انکار کر دیا اور بد زبانی فحش کلامی مولوی صاحبان کے حق میں شروع کیا اور کہتا ہے کہ آج کل کے مولویوں نے اسلام کو ڈبودیا ہے مولویوں کی الٹی بھی سیدھی اور سیدھی بھی الٹی اور حرام بھی حلال اور حلال بھی حرام ہے۔ حدیث اور قرآن کی باتوں کو ہم لوگ تسلیم نہیں کریں گے کیونکہ نیاز وفاتحہ جیسی انمول چیز کو نا جائز قرار دے دئے لہذا ایسے نام و نہاد ڈھونگی مولوی اور مسلمانوں پر جو کہ حدیث اور قرآن کا انکار کر جائے اور مولویوں کی شان میں گستاخی بُرا بھلا کہہ کر کیچڑ اچھالے،شریعت اسلامیہ کا کیا حکم ہے؟ مدلل جواب سے نوازیں۔ عین کرم ہو گا ! المستفتی: ندیم اللہ موضع دوہنا، پوسٹ بھوجی پورہ، بریلی، یوپی
الجواب: علماء کی اہانت حرام بد کام بد انجام بلکہ علماے کرام نے تصریح فرمائی کہ کفر ہے ۔ اشباہ میں ہے: ،، الاستهزاء بالعلم والعلماء كفر (1) اور یہ کہنا کہ ہم حدیث اور قرآن کی باتوں کو تسلیم نہیں کریں گے، بہت سخت کلمہ ملعونہ ہے جسے بکنے کی جرأت کا فر ہی کر دیگا۔ فی الواقع اگر ان لوگوں نے علمائے کرام کی بابت وہ کچھ کہا اور یہ کلمہ ملعونہ بکا توان پر تو به وتجدید ایمان و تجدید نکاح لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صبح الجواب والمولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۲ ذیقعده ۱۳۹۸ھ دار الافتاء منظر اسلام، محلہ سوداگران، بریلی شریف (1) الاشبا ه والنظائر مع الحموى باب الردة، كتاب السير ج ۲، ص۸۷، زکریابکڈپوسہارنپور