محفل میلاد کو حرام قرار دینے اور علمائے اہل سنت کی توہین کرنے سے متعلق سوال
اور دوسرے محلہ میں جا کر تقریر کرنے لگے موصوف کی تقریر کیا تھی پوری رات ان میلا دخواں لوگوں کے لئے ، اپنے معتقدین و مریدین کے لئے بددعا کرتے رہے اور صبح پھر اس مقام پر آئے جہاں پر حرام کا فتویٰ دے گئے تھے وہاں بھی جی بھر کر گالیاں دیں یہاں تک کہ اس خاندان میں ایک عالم ہیں جو دار العلوم گلشن مدینہ پرتاپ گڑھ کے ناظم ہیں ان کو بھی اپنی ہوس کا نشانہ بنایا اور ذاتیات پر حملہ کیا اور یہی نہیں مسلمانوں کی کوئی بھی برادری ان کے نشانہ سے محفوظ نہیں۔ مولانا موصوف اپنے کو حضرت علامہ مولانا سید شاہ ضیاء الدین احمد مہاجر مدنی علیہ الرحمہ کا خلیفہ بھی کہلاتے ہیں اور ساتھ ہی اکابرین اہل سنت کی توہین و تذلیل بھی کرتے ہیں خصوصا حضور مجاہد ملت رئیس اڑیسہ علیہ الرحمہ و حضرت علامہ نظامی صاحب قبلہ وغیرہ کو کئی بار بھرے مجمع میں بُرا بھلا کہا۔ موصوف پیری مریدی و تقریر کے علاوہ دو کا نداری کا بھی شغل رکھتے ہیں جہاں پر ان کی عدم موجودگی میں ان کی اہلیہ محترمہ دوکان پر بیٹھ کر سامان فروخت کرتی ہیں۔ ایسی صورت میں علمائے دین کیا حکم صادر فرماتے ہیں؟ (1) ایک جگہ پر دو محفل میلاد شریف ہو سکتی ہیں یا نہیں ؟ کیا از روئے شریعت دو محفلیں حرام ہیں؟ اگر نہیں تو حرام بتانے والے مفتی کا کیا حکم ہے؟ (۲) سنی عوام یا سنی عالم چاہے وہ کسی خاندان سے تعلق رکھتے ہوں ان کی ذاتیات پر حملہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو ذاتیات پر حملہ کرنے والے کا شرعاً کیا حکم ہے؟ (۳) مولانا موصوف نے جو اپنے مریدین و معتقدین کو لے کر بددعا کی کیا ان کا یہ فعل شرعا محترم ہے؟ اگر نہیں تو ان تمام لوگوں کا کیا حکم جو ان کی بددعا میں آمین کہہ رہے تھے؟ (۴) ایسا پیر جس کی بیوی بے پردہ دوکانداری کرتی ہو کیا ایسے پیر سے مرید ہونا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز نہیں تو کیا ان کے مریدوں کی مریدی برقرار رہی؟ (۵) علمائے حق اہل سنت کی توہین و تذلیل کرنا کیسا ہے؟ مندرجہ بالا الزامات کی روشنی میں مولانا موصوف کو کیا کرنا چاہئے؟ بینوا توجروا المستفتیان : ادریس احمد حبیبی وعبد القیوم جیبی وغیرہ بھی تیج ، بازار ضلع پرتاپ گڑھ، یوپی
(۱، ۲) اس شخص نے غلط مسئلہ بتایا اور بحکم حدیث مستحق لعنت ہوا۔ تو بہ کرے اور علماء کی بدگوئی سے بھی رجوع کرے بلکہ جس جس کو بیجا بُرا کہا ان کی بد گوئی سے تو بہ کرے اور ان سب سے معافی چاہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) سب گناہ گار مستحق نار۔سب پر تو بہ فرض ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) اگر وہ مقدور بھر منع نہیں کرتا تو فاسق ہے اور فاسق کو پیر بنانا گناہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) حرام بد کام بد انجام ۔ بلکہ بقول علماے اعلام کفر ہے۔ اشباہ میں ہے: الاستهزاء بالعلم والعلماء كفر (۱) تو بہ و تجدید ایمان لازم ہے اور تجدید نکاح بھی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم صبح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۷ ربیع الآخر ۱۴۱۲ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی دارالافتاء منظر اسلام، بریلی شریف