اردو میں خطبہ پڑھنے کا حکم اور علماء کی شان میں گستاخی کا وبال
(۲) زید کا کہنا ہے کہ جتنے مولوی آتے ہیں وہ نئے نئے قانون نکالتے ہیں ابھی تک اردو کا خطبہ پڑھا جاتا تھا اور اب اردو کا خطبہ پڑھنا بالکل بند کر دیا۔ عربی میں ہم کیا سمجھیں دریافت طلب امر یہ ہے کہ اردو کا خطبہ کیسا ہے پڑھنا چاہئے یا نہیں اور وہ یہی کہتا ہے کہ جس نے یہ لکھا وہ مولوی عالم نہیں ہوں گے جواب سے نواز میں۔ عین نوازش ہوگی ۔ فقط المستفتی: محمد سلیمان رضوی ، امام مسجد را جپور کلاں ڈاکخانہ خاص، بریلی شریف
الجواب: (۱) مرنے کے بعد زندہ ہونا اور اعمال کا حساب اور جزا وسز اضروریات دین سے ہے اور ضروریات دین میں سے کسی ضروری دینی کا منکر کا فر ہے وہ شخص تجدید ایمان کرے اور بیوی رکھتا ہوتو تجدید نکاح بھی کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) و شخص علماء کی تو ہین اور ان پر بہتان کا مرتکب ہے۔ علماء جو کچھ بتاتے ہیں وہ اللہ ورسول کا حکم ہوتا ہے اسے نئی بات کہنا مستلزم کفر ہے اور خطبہ خالص عربی میں ہر زمانے میں مسلمانوں کا معمول رہا ہے لہذا اس میں دوسری زبان ملانا مکروہ ہے اور عدم فہم کا عذر بیجا ہے اس عذر سے کیا نماز بھی اردو میں پڑھی جائے گی۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۲۱ / ذیقعده ۱۴۰۱ھ صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی