کسی سنی عالم دین کو گالی دینا اور دلوانا کیسا ؟ بد گمانی حرام اس کا مرتکب گنہ گار ہے!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: (۱) جو شخص کسی سنی عالم دین کو گالی دلوائے اور دے تو دینے والے اور دلوانے والے پر شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ تحریر فرمائیں۔ (۲) کسی دو بیدار آدمی پر جبکہ وہ سنی ہے اور کوئی سنی ہی دیندار بد گمانی کرے کہ اس نے ایسا کام نہیں کیا یہ اس دیندار شخص نے کرایا ہے کسی سنی دیندار کوکسی سنی دیندار پر بدگمانی کر کے الزام لگانا جائز ہے کہ نہیں؟ جبکہ اس پر الزام لگایا جارہا ہے وہ قطعی اس فعل کا مرتکب نہیں تو اس کی دیندار کو جو بد گمانی کر کے الزام لگارہا ہے اس کو دیندار خیال کرنا درست ہے کہ نہیں؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر دیندار ہوتا تو ایک سنی دیندار پر الزام ہی نہ لگا تا۔ جبکہ مومن کو مومن کی بات پر اطمینان کرنا چاہئے۔ چاہے وہ کذب ہی کہہ رہا ہو۔ شرعی حکم تحریر فرمائیں۔ المستفتی : محمد یونس رضا خاں قادری ، خادم جامعہ عربیہ مظہر اسلام، گرسہائے گنج
(1) سخت گناہ گار ہیں ۔ تو بہ کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) بدگمانی حرام ہے اور اس کا مرتکب گناہ گار ہے، تو بہ کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۳۰ رذی الحجہ ۱۴۰۱ھ