وہابیوں کی تبلیغ، نماز اور زید کے نازیبا کلمات سے متعلق سوال
دار الافتاء بریلی شریف ! السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاته! بعد قدم بوسی خدمت عالیہ میں عرض ہے کہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں کہ: (1) چند سال پہلے وہابیوں کا اجتماع ہوا جس میں تقریر ہو رہی تھی ایک کھتر ہ یہ کہ رہا تھا کہ بھائیو نماز کی تبلیغ کی تحریک ہماری منزل کی ابتدا ہے بھائیوں نماز پڑھا کرو تم نماز پڑھو گے تو حضور کی آنکھوں میں ٹھنڈک پہنچے گی صبح زید جس جگہ بیٹھ کر اپنی ڈیوٹی انجام دے رہا تھاوہاں چند وہابی اور ان کے ساتھ نو جوان اور کم عمر لڑ کے بھی تھے زید نے ان کو دیکھ کر وہاں پر موجود لوگوں کو بتایا کہ ان کمینوں کے نام نہاد مولوی جو قوم کے دشمن ہیں مولوی نے نماز پڑھا کر قوم کو بزدل بنا دیا ہے کیا اس جملے میں زید پر کوئی جرم عائد ہوتا ہے کہ زید نے مولویوں کے بارے میں یہ جملہ ادا کیا کہ ان مولویوں نے نماز پڑھا کر قوم کو بزدل بنا دیا ہے حضور کرم فرما کر جواب سے سرفراز فرمائیں۔ (۲) زید نے کہا کہ ہمارے مذہب میں نعرہ تکبیر، نعرہ رسالت ،جلوس و جلسہ اور اعراس اولیا سب جائز ہیں جن سے قوم میں ایک جوش و ہمت پیدا ہوتی ہے سارے شعائر اسلام حرام کر دئے ایک نماز رہ گئی وہ بھی منھ پر مار دی جائے گی اسی طرح رات کو من گھڑت حدیث بیان کر رہا تھا کہ بھائیوں! نماز پڑھا کر وتم نماز پڑھو گے تو حضور کی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچے گی ۔ حضور نے فرمایا ہے کہ نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ جبکہ صحیح حدیث پاک یہی ہے کہ حضور اسی چادر پر کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے ہیں کہ جس پر ہماری ماں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آرام فرما ہیں جس پر کافی رات ہو جاتی ہے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا حضور کے پائے مبارک میں ورم دیکھ کر فرماتی ہیں یا رسول اللہ آپ کے اگلے پچھلے معاف ہیں آپ اتنی نماز کیوں پڑھتے ہیں جس سے پیروں میں ورم آجاتا ہے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے زانوئے مبارک پر ہاتھ مار کر یہ فرمایا کہ عائشہ کیا اپنے رب کا شکر گزار بندہ نہ بنوں اور نماز کیوں نہ پڑھوں نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے حضور نے اپنی نماز اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک بنائی ہے یہ چودہویں صدی کا ملا جہنمی اپنی نماز کو حضور کی آنکھوں کی ٹھنڈک بتا رہا ہے کیا اس جملہ سے زید پر یہ جرم آتا ہے کہ زید نے حدیث کریمہ کو من گھڑت کہہ دیا ہے کہ کچھ لوگوں
نے اس پر زید کو کافر کہا اور رسوا کیا اور سلام و کلام بند کر دیا اور دوسرے لوگوں کو بھی سلام و کلام کرنے سے منع فرماتے ہیں حضور کرم فرما کر جواب سے سرفراز فرمائیں ۔ نوازش و کرم ہو گا ۔ المستفتی : خادم ، کاظم حسین باشی برکاتی قادری معرفت سرائے چکی والے محلہ نارو بھاسکر ، جالون الجواب: (1) زید کو وہ جملہ نہیں کہنا چاہیے تھا اس کا ظاہر بہت سخت ہے مگر زید کی مراد ظاہر ہے وہ قبیح وتشنیع وہابیہ ہے وہ وہابیہ دیوبندیہ ہیں اور ان کا ایک گروہ نماز وکلمہ کے ذریعہ عوام اہل سنت کو فریب دینے اور گمراہ کرنے میں لگا ہوا ہے زید کی اگر مراد یہی ہے تو ظاہر ہے کہ وہ نماز کی اہانت نہیں کر رہا ہے بلکہ وہابیہ کا فریب بتانا مقصود ہے مگر اس کا طریقہ ضرور بھونڈا ہے جس سے زید پر تو بہ ضروری ہے واللہ تعالیٰ اعلم (۲) وہ حدیث من گڑھت نہیں ہے، بیان کرنے والے نے ضرور مختلف طرز پر بیان کی ، حدیث میں یوں ہے کہ: وو جعلت قرة عيني في الصلاة (1) نماز میں میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے جس سے نماز کی اہمیت سمجھانا مقصود ہے اور زید کی توجیہ صحیح ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۸ / جمادی الآخره ۱۴۰۷ھ قاضی عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی کنز العمال، حدیث ۱۸۹۷۱ ، ۱۸۹۰۹ ، ۱۸۹۰۸، ج ۷، كتاب الصلاة، الفصل الثاني في فضائل الصلاة ص ۱۲۱، مطبع دار الكتب العلمية بيروت / المقاصد الحسنة باب حرف الحاء المهملة 112 ص ۲۱۱، مطبع برکات رضا پور بندر گجرات / مشكوة المصابيح ص ۴۴۹، باب فضل الفقراء وما كان من عيش النبي صلى الله عليه وسلم، الفصل الثالث مطبع مجلس برکات، مبارکپور اعظم گڑھ