اعلی حضرت کی شان میں گستاخانہ لہجہ اور ان کی تجدید کے انکار کا حکم
یہ کہنا کہ اعلی حضرت میرے لیے کوئی نبی ، رسول، مجتہد یا مسجد دنہیں ہیں یہ لہجہ ضرور اہانت آمیز ہے!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: ایک مولوی صاحب ہمارے یہاں تیجہ میں تشریف لائے تھے ایک صاحب سے کسی مسئلہ پر ان کی گفتگو ہوئی ان صاحب نے حضور اعلی حضرت فاضل بریلوی ریلی علیہ کا مسئلہ بیان کیا اس پر مولوی صاحب مذکور نے یہ کہ کر کہ اعلیحضرت میرے لئے کوئی نبی رسول مجتہد یا مجد نہیں ہیں۔ مسئلہ کے ماننے سے انکار کر دیا۔ ایسے شخص کے بارے میں شریعت حقہ کا کیا حکم ہے کیا ایک عالم کی شان میں گستاخی کے مترادف نہ ہوگا۔
الجواب اس میں شریعت
یہ لہجہ ضرور اہانت آمیز ہے اور وہ کلام جو مسئلہ کے جواب میں کہا ضرور بے محل اور اس مسئلہ کا انکار چاہنا ہوس خام ۔ وہ صاحب اگر ذی علم تھے تو انہیں وجہ معقول و مقبول بیان کرنا چاہیے تھا اس کے بجائے وہ کچھ کہنا ان کے عجز کی دلیل ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله