خاندان مداریہ میں بیعت اور اس سلسلے کے اتصال کی شرعی حیثیت
زید خاندان مداریہ سے بیعت ہے جس کی وجہ سے دل میں لوٹ پوٹ ہے صاف صاف لکھیں کہ یہ سلسلہ سوخت ہے اس میں مرید ہونا ٹھیک ہے یا کیا ہے؟ فقط !
الجواب: المستفانی : علاؤالدین عرف نتنها قصبہ پوٹہ کلاں ضلع پیلی بھیت یہ بات مداریہ کے ذمہ ہے وہ ثابت کریں کہ سبع سنابل شریف میں مندرج وہ ارشاد ہدایت بنیاد سید نامدار علیہ الرحمہ کی نسبت، بے بنیاد ہے یہ عجیب منطق الطیر ہے کہ مدعي اتصال، کتب مستنده معتمدہ سے صاف صاف اتصال بے شبہ کی سند نہ لائے اور مانع سے دلیل طلب کرے۔ دلیل اتصال میں جو کچھ ذکر کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ ” النور والبھاء “ میں سلسلہ مذکورہ کی سند تحریر ہے۔ یہ ہم پر حجت نہیں نہ سبع سنابل شریف میں درج اس ارشاد سید نامدار علیہ الرحمہ کی دافع کہ یہاں مطلوب اتصال صریح کی تصریح اور سند میں مثل سند حسن بصری ورتن ہندی ترک کا احتمال موجود اور محتمل سے استدلال باطل ہے یوں ہی بابا کپور مجذوب کی بابت جو شیخ محقق عبد الحق محدث دہلوی نے فرمایا: و انتساب او در سلوک و سلسله شاه مدار بود (۱) محل نزاع میں محتمل اور اتصال میں غیر صریح۔ اور ہم کو نہیں مطلوب بجز صریح تصریح پھر یہ کہ یہی شیخ محقق عبد الحق محدث دہلوی علیہ رحمتہ ربه القوی تذکرہ سید نامدار علیہ رحمتہ ربہ الغفار میں فرماتے ہیں: و بعضے چیز ہائے دیگر گویند که اصلے ندارد و از دائره شریعت و طریقت خارج است (۲) اب مدار یہ بتائیں کہ شیخ محقق کی اس عبارت سے قطع نظر کیوں جائز ہوا؟ اور وہ عبارت بابت کپور مجذوب کیوں قابل استناد خبری؟ اور اگر محکم کی نہ ٹھہرائی ہو تو اپنے ہی مستند شیخ مذکور کی لائی عبارت (1) اخبار الاخیار، ص۲۹۱، مطبع مکتبہ مجتبائی دہلی (۲) اخبارالاخیار، ص ۱۶۴، مطبع مکتبہ مجتبائی دہلی کو آنکھوں کے سامنے رکھ کے یہ بتائیں کہ وہ بعض جن کی نسبت یہ شیخ فرمارہے ہیں: د بعض چیز ہائے دیگر گویند اصلے ندارد “الخ ان سے جو سلسلہ چلا وہ دائرہ شریعت و طریقت سے خارج ہو کر منقطع ہوا یا نہیں؟ اگر کہیں نہیں، تو ان سے کلام نہیں کہ بقول شیخ ، شریعت وطریقت سے خارج ہوں گے ۔ اور اگر منقطع ما نہیں تو اب یہ بتانا ضرور کہ وہ بعض کون ہیں جن کا سلسلہ منقطع ہے اور وہ کون ہیں جن کا سلسلہ منقطع نہیں ۔ اور یہ کہ یہ تفصیل و تمیز کون سے مستند و معتمد طریقے سے حاصل ہوئی اور اگر یہ تفصیل و تمیز نہ ہو سکے تو شیخ کی عبارت میں بعض نامشخص اور جب وہ بعض نامشخص تو ہر فرد اس بعض کا مصداق ہوسکتا ہے اور اس وجہ سے انقطاع کا احتمال ہر فرد کے سلسلہ میں شائع اور اس طرح یہ عبارت شیخ مدوح سبع سنابل میں جو مندرج ہوا اس کی مؤید ہے ۔ پھر یہ امر کوئی ضروریات دین سے نہیں نہ کسی طرح امور مہمہ سے ہے لہذا ہماری تلقین لوگوں کو یہ ہے کہ اس پر مداریہ سے نہ الجھیں اور سلسلہ کے سوخت یا غیر سوخت ہونے کا تذکرہ ان سے نہ چھیڑیں اور مدار یہ کو بھی نہ چاہئے کہ خواہی خواہی ان لوگوں سے زبردستی اپنے سلسلہ کی بابت وہ بات کہلوائیں جو ایک بزرگ کی تکذیب پر مشتمل ہو ۔ اگر وہ اپنے سلسلہ کو سوخت نہیں سمجھتے تو ھماری طرف سے ان پر کوئی جبر نہیں، واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۱ / رمضان المبارک ۱۴۰۰ھ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی