استفتاء میں زید و عمر جیسے فرضی ناموں کا استعمال اور امام اعظم کی غوث اعظم پر افضلیت
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل سوالات میں ۔ (1) اکثر لوگ استفتاء میں زید عمر طلحہ زبیر زینب ہندہ کے نام لکھتے ہیں۔ مثلاً زید نے زنا کیا، عمر نے کلمہ کفر بولا، طلحہ نے چوری کی، زبیر اکثر جھوٹ بولتا ہے۔ زینب کا فلاں سے ناجائز تعلق ہو گیا۔ ہندہ نے شراب پی ۔ الحاصل یہ نام صحابہ وصحابیات کے ہیں اور کوئی سوال ایسا نہ ہوا ہوگا کہ کوئی بدفعلی یا بدکرداری کی نسبت ان مقدس ناموں سے نہ کی گئی ہو اور لطف کی بات یہ کہ سنی علماء بھی ان باتوں سے منع نہیں فرماتے کہ مسائل سے آگاہ کریں کہ سوال میں آئندہ ان ناموں سے سوال نہ کرنا۔ کیا یہ صحابہ و صحابیات رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی تو ہین نہیں؟ (۲) حضور غوث اعظم و حضور امام اعظم میں علم و فضل اور ولایت و بزرگی میں کیا فرق ہے؟ کچھ کہتے ہیں کہ حضور امام اعظم غوث پاک سے ہزاروں درجے بڑھ کر ہیں۔ کچھ کہتے ہیں غوث پاک امام اعظم سے ولایت میں بہت بڑے ہیں ۔ لہذا صاف واضح طور پر تحر پر فرما ئیں کہ کیا عقیدہ رکھنا چاہیے۔ مستفتی: محمد فاروق رضوی و محمد عثمان رضوی سیتا واڑھ جام نگر
الجواب : (۱) ہر شخص جانتا ہے کہ زید و عمر و بکر ہندہ عرف عام میں فرضی نام ہیں۔ جنہیں استفتاء میں بطور پردہ پوشی استعمال کیا جاتا ہے۔ ان ناموں سے صحابہ کرام کی ذوات مقصود نہیں ہوتی ہیں۔ انہیں اس تو ہین سے کیا علاقہ اور طلحہ وز بیروز ینب کا استعمال کہیں نہ سناہاں اور اگر کہیں استعمال ہوا ہو تو وہ بھی اسی عرف پر محمول ہوگا ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) یہ بحث کہیں نظر سے نہ گزری۔ اظہر یہی ہے کہ سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور غوث اعظم سے افضل ہیں۔ کہ امام اعظم امام المجتہدین ہیں اور مجتہدین غیر مجتہد سے افضل تو امام اعظم بدرجہ اولی کہ غوث اعظم امام احمد ابن حنبل کے مقلد ہیں اور ہمارے امام ان سے اور سب ائمہ سے افضل و اعظم واکبر ہیں ۔ اسی لئے آپ کا لقب امام اعظم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرله ۲ ؍ رجب المرجب ۱۴۰۰ھ