مقررہ تنخواہ میں کمی جائز نہیں ، علمائے کرام کی شان میں گستاخی کرنے والے کا حکم !
علمائے دین کیا ارشاد فرماتے ہیں مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں کہ (1) صدر انجمن نے امام کا ماہانہ تنخواہ تین سور و پیر مع خوردونوش کے بھرے مجمع میں اور مسجد میں اعلان کیا اور دیتے رہے مگر اب تقریبا دس ماہ سے روک ڈالے اب کہتے ہیں دوسوروپے ماہانہ کو کہا، یہ وعدہ وعید شرعا درست ہے: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ) ( سور کماند ۱۰) آیت کریمہ کے خلاف ہوا یا نہیں؟ (۲) گذشتہ سال عید الفطر کا چاند دیکھنے اور نہ دکھائی دینے پر اختلاف رہا اسی پر زید نے ببانگ دہل بلند آواز میں مفتی اور علمائے دین کی مادر پدر کی گالیاں بکنا شروع کر دیا حد تو یہ ہے کہ کہتا ہے کہ ان سب کو جمع کر کے ان کی داڑھیوں کو اکھاڑ کر انکی نانی اور ماں کے اندام نہانی میں ڈال دو معاذ اللہ ثم معاذ اللہ ایسا کفری کلام شعار اسلام؟ انبیاء علیہم السلام نائب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بکنا کیا درست ہے؟ (۳) ایک نام نہاد مولوی کبھی کبھی امامت کرتے ہیں بابری مسجد کے متعلق کہتے ہیں کہ مسلمان بادشاہ نے مندر کو توڑ کر مسجد بنائے تھے اب اگر ہندو مسجد پر قابض ہو گئے تو یہ ہوتا ہے ایسا خیال مسجد کے بارے میں رکھنے والا کیسا ہے؟ (۴) اسی مفتری نے کافر کی میت میں شرکت کی یہاں تک کہ مرگھٹ بھی گیا ایسے مفتری بد مذہب کی تحسین کرنے والے کی اتباع کرنی چاہئے؟ (۵) امام کچھ شیرینی بتاشے رکھے تھے بکر نے کہا مجھے دو، امام نے کہا یہ اب چھوٹے بچوں کے لئے ہیں بڑوں کو تو مل چکا ہے تو بکر نے کہا ہم بھی تو اللہ کے بیٹے ہیں بچے ہیں اب دو ، امام نے بکر کے اس کفری ملے پر تنہا کیا کیا کرے تو نے کہا کہ چھو نی میں کہا گیا مستفتی: ایم ایم علی قریشی مقام و پوسٹ ضلع سرگوجه
الجواب: (1) اگر به عقد صراحتہ سال بھر کیلئے ہوا یا صراحت مدت بیان نہ ہوئی مگر عرف یہی ہے کہ امام وغیرہ کو سال دو سال یا اس سے زائد کے لئے مقرر کرتے ہیں جو طے ہوا وہ دینا لازم ہے اور تمامی مدت سے پہلے بلا وجہ اس سے نہ پھرے اور نیا عقد کرنے سے پہلے بے وجہ شرعی کسی کو اختیار نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) گالی بکنا حرام ہے حدیث میں ہے: وو سباب المسلم فسوق (1) مسلمانوں کو گالی دینا فسق ہے اور علمائے کرام کی شان میں گستاخی کفر ہے۔ الاشباہ والنظائر میں ہے: ،، الاستهزاء بالعلم والعلماء كفر (۲) اس شخص پر بر تقدیر صدق سوال تو به و تجدید ایمان و تجدید نکاح جبکہ بیوی رکھتا ہو فرض ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) وہ سخت بدخواہ مسلمین ہے اور بے ثبوت شرعی الزام لگانا اور جومشرکین کے افتراء کو دہراتا ہے اور ان کے فعل شنیع کی توثیق کرتا ہے وہ تو بہ کرے ورنہ انہیں میں سے ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) اس پر اس فعل بد سے تو بہ تجدید ایمان وغیرہ فرض ہے اور وہ امامت وغیرہ کے لائق نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) ہنسی مذاق کفر بکنے کا عذر نہیں ۔ قال تعالیٰ: قُلْ آبِاللهِ وَايْتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُونَ (۳) جس نے وہ کفری جملہ کہا اسلام سے خارج ہو گیا نئے سرے سے تو بہ وتجدید ایمان کرے، داخل اسلام ہو اور بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے ورنہ ہر واقف حال مسلم اسے چھوڑ دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۸ رشعبان المعظم ۱۴۰۶ھ