کسی عالم پر جھوٹا الزام لگانا سخت کبیرہ گناہ اور کسی امر ضروری کا انکار کرنا کفر ہے
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں کہ: (1) جو کسی عالم کی تحقیر کے لئے جھوٹا بہتان اٹھائے کہ اس عالم کی تحقیر ہو جائے ، عالم کی تحقیر کرنا کیسا ہے؟ (۲) ایک بے ادب گمراہ فاسق ممبر پر چڑھ کر دوران تقریر میں پبلک کو اور جاہل مسلمانوں کو بدگمان کرنے کے لئے یہ بولا کہ نہ میں بریلی کا فتویٰ مانتا ہوں نہ میں کانپور کا فتویٰ مانتا ہوں میں خود عالم ہوں جو کچھ میں کہتا ہوں اپنے علم سے کہتا ہوں اگر کوئی باپ کا بیٹا ہے تو میرے سامنے آئے تو اب کہنا یہ ہے کہ کا نور کا فتو ی ت نہیں چلتا ہے مگر بریلی کا فتویٰ ہندوستان اور غیر ہندوستاں بلکہ عربستان میں بھی چلتا ہے اور ہم مذہب اہل سنت کا نام تو غیر مذاہب نے بریلی پارٹی ہی رکھا ہے۔ اس بے ادب نے پردہ کرنے کے لئے کانپور کا نام لیا۔ شرع مطہرہ کا ایسا کہنے والے پر کیا حکم ہے؟ (۳) ایسی بیا کی کرنے والے کو اگر کوئی جاننے والا گمراہ بددین جنگلی سور جہنمی کہتا کہے تو ایسا کہنے والے پر شرع کا کیا حکم ہے؟ (۴) ایک عالم کسی کے کہنے سننے سے دوسرے عالم کی تحقیر کے لئے کہے کہ وہ عالم فسادی ہے اپنا پیٹ پالنے کے لئے ہے۔ حالانکہ جس عالم کے بارے میں اس عالم نے کہا،سراسر غلط اور بہتان ہے اور اس عالم کی تحقیر ہے شرع مطہرہ کا اس بارے میں کیا حکم ہے؟ (۵) جو عالم اپنے کو اہل سنت کہے اور کہتا ہے کہ وہابی کا ذبیحہ حرام ہے پھر وہابی کے یہاں دعوت کھاتا
فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۹/ جمادی الاخری ۱۴۱۲ھ کسی عالم پر جھوٹا الزام لگانا سخت کبیرہ گناہ اور کسی امر ضروری کا انکار کرنا کفر ہے!