بد عقیدہ کے پیچھے نماز، طوائف کے ناچ سے مدرسہ کی امداد اور مسجد کے نیچے ہندوؤں کی دکانوں کے متعلق سوالات
کرتے ہیں جبکہ تعویذات سے فقط مقصد امام خدمت خلق خدا ہے۔ البتہ امام صاحب جوا دویات مرتب کرتے ہیں اسی کے لئے پیسے صلہ لیتے ہیں۔ دیگر زید جس امام کی مخالفت کرتا ہے دراصل اس امام کی اقتدا میں نماز بھی ادا نہیں کرتا زید اہل سنت امام کے علاوہ ( مثلا دیوبندی، اہل حدیث وغیر ہم امام کی اقتدا میں نماز ادا کرتا ہے )۔ دیگر امام صاحب تقریبا ۱۵ار سال سے ایک ہی مسجد میں امامت کے فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ دیگر زید کا کاروبار بازاری ہے اور بازار میں کپڑے کی تجارت کی دوکان ہے اور جبکہ زید کی دوکان پر عورتوں کا بلا تکلف بغرض خرید وفروخت ، آنا جانا ہے تو کیا زید کی دوکان پر عورتوں کا آنا شرع کی رو سے جائز ہے؟ آج سے تقریباً ۵ سال قبل زید اور بکر نے جودھپور شریف سے طوائف عورتوں کو بلوا کرنا چنے اور گانے کا پروگرام کرایا فقط ایک مدرسے کی امداد کے لئے ناچ میں جو کثیر رقم آئی اس رقم کو مدرسے کے کام میں صرف کیا۔ ایسے مدرسے میں تعلیم حاصل کرنا تعلیم دینا شرع کی رو سے جائز ہے؟ اور اگر جائز ہے تو کس رو سے؟ دیگر ایک مسجد ہے جس کے نیچے کئی دوکانیں ہیں جو فقط کرایہ کی غرض سے بنوائی گئی ہیں وہ دوکانیں غیر مسلم کو کرایہ پر دے رکھی ہے جبکہ ہندو لوگ ان دوکانوں کے اندر بتوں کی تصویر رکھ کر پوجا کرتے ہیں اور ٹیپ ور یڈیو بھی بجایا کرتے ہیں تو ایسی مسجد میں نماز ادا کرنا جائز ہے؟ اگر ہے تو کیسے؟ دار العلوم اسحاقیہ جودھپور سے ابھی حال ہی میں ایک فتویٰ آیا ہے جو زید اور بکر نے مل کر منگوایا ہے وہ فتویٰ فقط زید اور بکر کی نفسانیات پر مشتمل ہے۔ جبکہ مسجد کے کثیر مقتدی کی تصدیقات سے یہ بات سر عام آتی ہے کہ زید اور بکر کا فتویٰ منگوانا امام کے خلاف بے سود ہے زید اور بکر نے امام پر یہ اعتراض عائد کیا ہے کہ مسجد میں عورتیں مسلم و غیر مسلم بغرض تعویذات آتی ہیں اس لئے ایسے امام کے پیچھے نماز نہیں ہوتی ۔ جبکہ امام کا حجرہ ہی خارج مسجد ہے اور تعویذات امام اپنے حجرہ ہی میں دیتے ہیں۔ (نوٹ) صورت مسئولہ کا جواز فتاویٰ امجدیہ سے ثابت ہے۔ (بحوالہ فتاوی امجد یہ ص ۱۱۶ مسئلہ نمبر (۱۲) منجانب مصلیان مسجد ، تلیان
الجواب: صورت مسئولہ میں سارے الزامات جو زید و بکر پر سوال میں تحریر ہوئے اگر شرعاً ثابت ہیں تو زید و بکر عند الله و عند الناس سخت گنہ گار و مستوجب نار حق اللہ وحق العبد میں گرفتار ہیں۔ غیر مقلد کہ وہابی گمراہ بے دین ہے اسے امام بنانا اور سنی امام کی اقتدا بے وجہ شرعی چھوڑنا بہت سخت گناہ ہے اور اس وہابی کی اقتدا میں جو نمازیں پڑھیں وہ اصلانہ ہوئیں اور اگر اس کو بد عقیدہ و بے دین جانتے ہوئے اس کے کفر پر مطلع ہو کر اسے دانستہ امام بنایا تو ایمان ہی رُخصت ہو گیا کہ کافر کی تعظیم کفر ہے۔ در مختار میں ہے: ،، تبجيل الكافر كفر (1) اور امام بنانا تعظیم ہے۔ جس کا مستحق شرعاوہ مسلمان بھی نہیں جو علانیہ فسق و فجور کا مرتکب ہو تو کا فر و امام بنانا کیونکر روا ہوگا۔ تعیین پھر رد المحتار میں ہے: في تقديمه للامامة تعظيمه وقد وجب عليهم اهانته شرعاً (۲) دو کا نہیں مسجد کی غیر مسلموں کو نہ دینا چاہیئے تھا بُرا کیا اور طوائف کا ناچ گانا کرانا بہت سخت حرام اشد کبیر عظیم گناہ ہے اور وہ ناجائز پیسہ مدرسہ میں دینا بھی حرام مگر اس وجہ سے مدرسہ میں تعلیم دینا نا جائز نہیں اس وجہ سے اس مسجد میں نماز پڑھنا نا جائز نہیں ہوگا امام کو چاہئے کہ مسجد یا فناء مسجد میں تعویذ وغیرہ کی قیمت نہ لے۔ ہندیہ میں ہے: د, رجل يبيع التعويذ في المسجد الجامع وياخذ عليه المال ويقول ادفع الى الهدية لا يحل له ذلک کذا فی الکبری ، ملخصاً (۳) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۷ رصفر المظفر ۱۴۰۶ھ (1) الدر المختار كتاب الحظر والاباحة باب الاستبراء ج ۹، ص ۵۹۲ ، دار الكتب العلمية، بيروت (۲) رد المحتار، کتاب الصلاة باب الامامة ج ۲، ص ۲۹۹ ، دار الكتب العلمية، بيروت (۳) فتاوی هندیه ، ج ۵، ص ۳۷۱، کتاب الكراهية، باب في أداب المسجد، مطبع دار الفکر بيروت