علماء پر تہمت لگانا اور داڑھی کی مقدار کے حوالے سے غلط بیانی کرنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارے میں کہ: زید کہتا ہے کہ داڑھی رکھنا سنت ہے لیکن عالموں نے یہ اپنی طرف سے لگایا کہ ایک مشت دو انگل رکھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف پہچان مسلماں کے لئے فرمایا، زیادہ رکھو یا تھوڑی سب کی سب درست ہے۔ لہذا شرع شریف کا زید پر کیا کریں ۔ فقط !
المستفتی بمسلمانان انجمن اسلامیہ کانوینٹ اودے پور، راجستھان زید بے قید علما پر تہمت دھرتا ہے اور اپنی عاقبت تباہ کرتا ہے۔ علما نے کچھ اپنی طرف سے نہ فرمایا جو کچھ وہ فرماتے ہیں وہ قرآن عظیم وحدیث رسول کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم سے ماخوذ ومستنبط ہوتا ہے۔ اس لئے علماء کی اتباع و پیروی کا حکم آیا ہے۔ حدیث میں فرمایا: (1) (۲) اتبعوا العلماء فانهم سرج الدنيا ومصابيح الآخرة ) علماء کی پیروی کرو کہ وہ دنیاو آخرت کے روشن چراغ ہیں۔ تو ان کی پیروی اللہ و رسول جل وعلا وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی پیروی ہے اور حدیث میں ہے: العلماء ورثة الانبياء“(۲) علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ تو ان پر طعن معاذ اللہ خد اور سول پر طعن ہے اور دین سے امان اٹھانا ہے کل کوئی ملحد زندیق اسی زید بے قید سے سیکھ کر کہے گا کہ معاذ اللہ میں حدیث وقرآن کو نہیں مانتا یہ علماء کی من گڑھت ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ اور یہ دعویٰ بھی اس کا محض جھوٹ ہے کہ ایک مشت رکھنے کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا۔ سچا ہے تو ثبوت دے اور یہ سمجھ لینا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول نہ ہوا لہذا حضور علیہ السلام نے فرمایا ہی نہیں محض جہالت ہے کہ عدم نقل انقل عدم نہیں یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی جنگل یا پہاڑ کا رہنے والا کہے کہ تاج محل کوئی چیز نہیں کہ ہم نے اب تک سنا ہی نہیں ۔ پھر حضور کا ارشاد وہی نہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے زبان فیض ترجمان سے فرمایا بلکہ وہ بھی حضور ہی کا ارشاد ہے جو ان کے صحابہ ان کے اقوال و افعال میں ان کی اقتدا کرنے والے سنت سیدنا مصطفی علیہ التحیۃ والثناء بتانے والے فرمائیں۔ تنویر الحوالک میں امام اجل سیوطی علیہ الرحمۃ اور کتاب الآثار میں سیدنا امام محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سید نا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ آپ بہ مقدار یک مشت داڑھی کو پکڑ لیتے اور جو زائد ہوتی کاٹ دیتے تھے (1) اور یہ سید نا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں جو سنت نبوی پر نہایت حریص تھے اب یہ زیدان پر بھی بہتان رکھے بلکہ بلا شبہ اس کا یہ بہتان ان کی جناب تک پہنچا اور یہ بھی اس کا جھوٹ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف پہچان رکھی ، زیادہ رکھو یا تھوڑی۔ الخ ، حدیث میں صاف حکم دارد: وو وفروا اللحی (۲) داڑھیاں بڑھاؤ۔ اب زید کو خدا سمجھ دے تو اس سے سمجھ لے کہ جب زیادتی کا حکم ہے تو قدرقبضہ سے کم میں بڑھانا کب ہوا۔ بلکہ اس کا کم ہونا مشاہد و مبصر و محسوس ہے اور اس سے پہچان بھی مسلم کی خاص نہیں جس کا یہ قائل ہے کہ اتنی داڑھی تو بعض کفار و نصاریٰ بھی رکھتے ہیں۔ تو یہ پہچان نہ ہوئی بلکہ ان سے مشابہت ہوئی جو حرام بد کام بدانجام ہے۔ در مختار میں ہے: "اما الاخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله (1) كتاب الآثار باب في الخضاب والاخذ عن اللحية والشارب ج ۱، ص ۲۳۴ مطبع دار الكتب العلمية بيروت / تنویر الحوالک، کتاب الشعر باب السنة في الشعر، ص ۶۸۲ ، دار الكتب العلمية بيروت (۲) الصحيح للبخاری ج ۲، ص ۸۷۵ ، کتاب اللباس باب تقليم الاظفار مطبع مجلس برکات بعض المغاربة ومخنثة الرجال فلم يبحه احد وأخذ كلها فعل يهود الهند ومجوس الاعاجم‘(1) زید پر اپنی گمراہی سے تو بہ لازم ورنہ اس سے مسلمان دورر ہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۶ / ربیع الاول ، ۱۳۹۸ھ الجواب صحیح والحجیب مصیب و مثاب و اللہ تعالی اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء، منظر اسلام، بریلی شریف