اعلیٰ حضرت کا مجدد ہونا، سلاسل طریقت کا قرب الہی اور سیدنا غوث اعظم کی افضلیت
(1) امام اہل سنت مولانا احمد رضا فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ چودھویں صدی کے مجد داعظم نہیں تھے اس مسئلہ میں بکر کہتا ہے کہ وہ مسجد داعظم تھے کس کا قول صحیح ہے؟ تحریر فرمائیں (۲) زید اپنے آپ کو نقشبندی کہتا ہے اس کا کہنا ہے کہ قادریوں کا سلسلہ حضرت علی تک ہے اور نقشبندیوں کا سلسلہ حضرت ابو بکر تک ہے لہذ انقشبندی سلسلہ اللہ سے زیادہ قریب اور قادری سلسلہ اللہ سے دور ہے زید کا قول صحیح ہے یا غلط؟ جواب تفصیل سے تحریر فرمائیں (۳) زید پیران پیر دستگیر محی الدین عبدالقادر جیلانی کو صرف اپنے دور کا غوث کہتا ہے اب اس وقت کے غوث اعظم نہیں لہذا اس وقت کے غوث اعظم کو تلاش کرو، زید کا قول کہاں تک درست ہے تحریر فرما ئیں
الجواب: سنی مسلم کمیٹی حسن ، راجکوٹ گجرات (1) اعلیٰ حضرت عظیم البرکت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو علمائے حرمین شریفین نے مجد دکہا اور ان کے زمانے سے آج تک جملہ علمائے اہل سنت و عوام مجدد دین وملت جانتے مانتے چلے آئے ۔ اور خودان کا کام ان کے احیائے سنت و تجدید دین پر شاہد عدل ہے۔ اور جو اپنے زمانے میں احیائے سنت وازالہ بدعات و منکرات کرے وہی مجدد ہے۔ خواہ کوئی کہے یا نہ کہے زید بے قید کی باتوں پر کان نہ دھرا جائے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے کارہائے نمایاں کی تفصیل کیلئے امام احمد رضا اور ازالہ بدعات و منکرات مصنفہ یسین اختر مصباحی کو دیکھیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) زید بے قید نے بڑی سخت جرات کی اس پر تو بہ لازم ہے ۔ ورنہ ہر واقف حال مسلم اسے چھوڑ دے۔سلسلہ قادریہ اور جملہ سلاسل بزرگان دین خدا و رسول تک پہچانے والے ہیں ان میں کسی سلسلہ کو اللہ سے دور بتا نا خوداللہ سے دور ہونا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) زید بے قید کی یہ بات بھی جناب غوثیت مآب میں سخت جرات ہے اولیاء کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے درمیان تمام اولیاء پر غوث اعظم کی فضیلت مسلم ہے۔ اور ان کا منصب معلوم ہے۔ زید کا یہ دعوی بے دلیل ہے اس پر اس سے تو بہ در جوع فرض ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ شب ۷ ارجب المرجب ۱۴۰۹ ھ نزيل اجمیر معلی